رسائی کے لنکس

logo-print

ملائشیا: گرجا گھروں پر حملوں کے بعد سات اور افراد گرفتار



ملائشیا میں بڑھتی ہوئى مذہبی کشیدگی کے دوران مسلم اکثریت کے اس ملک کی پولیس نے جمعے کے روز کہا ہے کہ اُس نے گرجا گھروں اور ایک کیتھولک سکول میں آتش زنی کے واقعات کے سلسلے میں سات اور افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

بدھ کے روز پولیس نے آٹھ اور افراد کو کوالالمپور کے نواحی علاقے میں جنوری کے شروع میں اُس گرجا گھر پر حملے کے سلسلے میں حراست میں لیا تھا، جس کی نچلی منزل آتش زنی کے باعث جل کر تباہ ہو گئى تھی۔

حملہ آوروں نے پچھلے ایک مہینے کے دوران ملک بھر میں 11 گرجا گھروں اور دو مسجدوں پر آگ لگانے والے بم پھینکے ہیں، دوسری چیزوں سے حملے کیے ہیں یا توڑ پھوڑ کی کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے شمالی ریاست پِیراک میں ایک کانونٹ سکول اور کوالالمپور میں ایک گوردوارے پر بھی حملے کیے ہیں۔

ملائشیا میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اُس وقت سے بڑھی ہوئى جب دسمبر کے آخر میں ملائشیا کی عدالتِ عالیہ نے حکومت کی عائد کردہ اُس پابندی کو ختم کر دیا تھا، جس کے تحت غیر مسلم خدا کے لیے لفظ ’اللہ‘ استعمال نہیں کرسکتے تھے۔

ملائشیا کے رومن کیتھولک اخبار ہیرلڈ نے ملک کی دوسری مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی جانب سے حکومت کی عائد کردہ پابندی کے خلاف قانونی جنگ کی قیادت کی تھی۔ اخبار کے ایڈیٹر، ہیرلڈ کے مَلے زبان کے ایڈیشن میں لفظ اللہ استعمال کرنا چاہتے تھے اور اس کی اجازت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے عدالت میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ مَلے زبان میں خدا کے لیے صرف ایک ہی لفظ ہے، اور وہ اللہ ہے۔

ملائشیا کی دو کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 60 فیصد لوگ ملائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ سب مسلمان ہیں۔اہم مذہبی اقلیتوں میں بدھ مَت، عیسائیت اور ہندومَت کے پیرو کار شامل ہیں۔

عدالتِ عالیہ نے حکومت کو اپنے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا موقع دینے کے لیے فی الحال اپنے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG