رسائی کے لنکس

logo-print

ملائشیا: لفظ اللہ استعمال کرنے پر تین اورگرجاگھروں پر حملے



ملائشیا میں جہاں غیر مسلموں کی جانب سےخُدا کے لیے لفظ اللہ کے استعمال پر کشیدگی بڑھتی جارہی ہے ، تین اور گرجا گھروں اور ایک کیتھولک سکول پر حملے کیے گئے ہیں۔

پولیس نے اتوار کے روز کہا ہے کہ گرجا گھر اور سکول پر یہ حملے شمال کی ریاست پیراک کے شہر تائے پِنگ میں کیے گئے ہیں۔ ایک اور گرجا گھر میں مٹی کے تیل سے بھری ایک بوتل ملی ہے ، جو باور کیا جاتا ہے کہ آتتش زنی کی ایک اور ناکام کوشش کا حصّہ تھی۔ ریاست ملاکا میں ایک گرجا گھر کی بیرونی دیوار پر کسی نے سیاہ رنگ پھینک دیا۔

ان حملوں کے باوجود اتوار کے روز ہزاروں لوگوں نے گرجا گھروں میں عبادت کے اجتماعوں میں شرکت کرتے ہوئے اپنی یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔

وزیرِ داخلہ ہِشام الدین حسین نے سرکاری خبر رساں ایجنسی برنامہ سے کہا ہے کہ صورتِ حال قابو میں ہے اور لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہئیے۔

کوالالمپور میں گُڈ شَیپرڈ لُودَرن چرچ پر ہفتے کے روز آگ لگانے والے بم پھینکے گئے تھے۔ آتش زنوں نے جمعے کے روز تین اور گرجا گھروں پر حملے کیے تھے ، جن میں سے ایک کو آگ لگنے سے بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔

مسلم اکثریت کے اس ملک میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی اُس وقت سے بڑھی ہوئى جب دسمبر کے آخر میں ملائشیا کی عدالتِ عالیہ نے حکومت کی عائد کردہ اُس پابندی کو ختم کردیا تھا، جس کے تحت غیر مسلم خدا کے لیے لفظ اللہ استعمال نہیں کرسکتے تھے۔

ملائشیا میں مسلمان تنظیموں نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف جمعے کے روز پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

وزیرِ اعظم نجیب رذّاق نے تمام عبادت گاہوں کے اطراف میں حفاظتی انتظامات میں اضافہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ملائشیا کے رومن کیتھولک اخبار ہیرلڈ نے ملک کی دوسری مذہبی اور نسلی اقلیتوں کی جانب سے حکومت کی عائد کردہ پابندی کے خلاف قانونی جنگ کی قیادت کی تھی۔ اخبار کے ایڈیٹر ہیرلڈ کے مَلے زبان کے ایڈیشن میں لفظ اللہ استعمال کرنا چاہتے تھے اور اس کی اجازت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے عدالت میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ مَلے زبان میں خدا کے لیے صرف ایک ہی لفظ ہے ، اوروہ اللہ ہے۔

ملائشیا کی دو کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں تقریباً 60 فیصد لوگ مَلے ہیں اور وہ سب مسلمان ہیں ۔اہم مذہبی اقلیتوں میں بدھ مَت، عیسائیت اور ہندومَت کے پیرو کار شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG