رسائی کے لنکس

logo-print

ملائیشیا میں گرفتاریوں سے متعلق متنازع قانون منظور


فائل فوٹو

ایوان زیریں سے منظور ہونے والے اس قانوں میں تبدیلی کے ذریعے مشتبہ افراد کو نقص امن کا خطرہ تصور کرتے ہوئے دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا جاسکے گا

ملائیشیا میں قانون سازوں نے سکیورٹی قوانین میں اس متنازع تبدیلی کو منظور کر لیا ہے جس کے تحت قانون نافذ کرنے ادارے لوگوں کو بغیر کسی الزام کے سالوں تک حراست میں رکھ سکیں گے۔

اس تبدیلی کے ذریعے مشتبہ افراد کو نقص امن کا خطرہ تصور کرتے ہوئے دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا جاسکے گا اور اگر متعلقہ پینل یہ سمجھے کہ مشتبہ شخص نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے تو حراستی مدت میں توسیع بھی کی جاسکے گی۔

انسانی حقوق کی تنظمیں امن عامہ کے لیے خطرے کی اصطلاح کو مہبم قرار دیتے ہوئے اس تبدیلی کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔

ملائیشیا کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے جمعرات کو 1959ء کے پریونشن آف کرائم ایکٹ میں تبدیلیوں کی منظوری دی اور توقع ہے کہ جلد ہی ایوان بالا سے منظوری کے بعد اس پر بادشاہ دستخط کر دیں گے۔

وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کے دیرینہ اتحادی بڑھتے ہوئے منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے قانون میں ان تبدیلیوں کی دلیلیں دیتے آئے ہیں۔

انسانی حقوق کی ایک موقر تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بدھ کو کہا تھا کہ یہ مجوزہ تبدیلیاں ’’حقوق کے تناظر میں الٹا قدم ہے کیوں کہ اس سے سفاکانہ انٹرنل سکیورٹی ایکٹ کی طرز کے گرفتاریوں سے متعلق اقدامات دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔‘‘
XS
SM
MD
LG