رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ کی لاپتہ افراد سے متعلق حکومت سے وضاحت طلب


فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے مالاکنڈ کے حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد سے متعلق مقدمے کے بارے میں سپریم کورٹ گزشتہ سال 10 دسمبر کو اپنے ایک فیصلے میں حکومت کو ان افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے لاپتہ افراد سے متعلق حکومت کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کے سیکرٹری اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے چیف سیکرٹری سے اس بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

سپریم کورٹ نے ان دونوں اعلٰی سرکاری عہدیداروں کے علاوہ سیکرٹری قانون کو بھی نوٹس جاری کیا ہے اور اُنھیں کہا کہ وہ 17 جنوری تک اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے مالاکنڈ کے حراستی مرکز سے لاپتہ ہونے والے 35 افراد سے متعلق مقدمے کے بارے میں سپریم کورٹ گزشتہ سال 10 دسمبر کو اپنے ایک فیصلے میں حکومت کو ان افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

عدالت عظمٰی کے اس فیصلے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے بھی جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جو اب اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے لاپتہ افراد کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی ہے اس میں عدالت کے فیصلہ عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔

گزشتہ مہینے وزارت دفاع نے مالاکنڈ سے مبینہ طور پر لاپتہ افراد میں سے 14 کو سپریم کورٹ میں پیش کیا تھا جن میں سے صرف چھ افراد کی شناخت ہی ہو سکی تھی۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف عدالت میں کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ لاپتہ افراد میں سے کوئی بھی فوج کی تحویل میں نہیں ہے اور ان میں سے صرف دو مشتبہ افراد سول انتظامیہ کے تفتیشی مرکز میں ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق حقائق جاننے اور اس بارے میں عدالت عظمٰی کے احکامات کے مطابق عمل درآمد کرنے کے لیے حال ہی وزیر دفاع خواجہ آصف کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ جبری گمشیدگیوں کو روکنے کے لیے قانون سازی بھی کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG