رسائی کے لنکس

ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھام


موبائل فون پر استعمال کی جاسکنے والا یہ ایپ، ہراساں کیے جانے کی صورت میں خواتین کو فوراً مددگار حکام تک رسائی کی سہولت فراہم کرے گا۔

پاکستان نے صوبے پنجاب کی حکومت نے خواتین کو ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے سیف سیٹی منصوبے کے تحت پنجاب کمشن برائے خواتین کی مدد سے ایک ایب کی تیاری پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔

موبائل فون پر استعمال کی جاسکنے والا یہ ایپ، ہراساں کیے جانے کی صورت میں خواتین کو فوراً مددگار حکام تک رسائی کی سہولت فراہم کرے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دفتر، عوامی مقامات اور دیگر جگہوں پر ہراساں کیے جانے یا گھریلو تشدفد کی صورت میں، متاثرہ خاتون اس اپب کے ذریعے مدد حاصل کرسکے گی۔ یہ اپب متعلقہ حکام کو متاثرہ خاتون کے مقام کی نشان دہی بھی کرے گا۔

اس کے بعد حکام فوری طور پر صورت حال پر قابو پانے کے لیے امداد بھیج دے گی جو ڈولفن فورس یا پولیس کا خصوصی دستہ ہوگی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ لاہور پولیس ریسکیو 15 کے لیے بھی موبائل فون کی ایک ایپ کی تیاری پر کام کررہی ہے۔

اس ایپ کا مقصد ہراساں کیے جانے کے متعلق شعور و آگہی بیدار کرنا اور متاثرہ افراد کی مدد کرنا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے بھیجی جانے والی فون کال ریسکیو 15 کی ہیلپ لائن پر موصول ہوگی جہاں اس مقصد کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا جا رہا ہے۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG