رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: 7/7 کے متاثرین کی یاد میں مساجد میں افطار کا اہتمام


لندن حملوں کے دس برس مکمل ہونے پر مرنے والوں کے احترام میں بہت سی تنظیموں اور افراد کی جانب سے منگل کو ملک بھر میں مخلتف تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

برطانیہ کی مسلم کونسل نے لندن کی بسوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر مساجد میں دعائیہ تقریبات منانے کا اعلان کیا ہے۔

'مسلم کونسل آف بریٹن' کے اعلان کے مطابق 7/7 کے لندن حملوں میں جاں بحق ہونے والے افراد کی یاد میں ملک کی درجنوں مساجد میں پیر کی شام 'قومی امن افطار' کی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لندن حملوں کے دس برس مکمل ہونے پر مرنے والوں کے احترام میں بہت سی تنظیموں اور افراد کی جانب سے منگل کو ملک بھر میں مخلتف تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

تنظیم کی طرف سے جاری ہونے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی مساجد کی طرف سے لندن سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کو یاد کرنے کے لیے مقامی کمیونیٹیز کو مساجد میں آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لندن، برمنگھم، نوٹنگھم اور مانچسٹر، آکسفورڈ شائر اور بریڈ فورڈ سمیت دیگر شہروں کی مساجد نے سات جولائی 2005ء میں لندن کی زیر زمین ٹرینوں اور بس حملوں کی یاد منانے کے لیے بین المذاہب افطار کی تقریبات کی منصوبہ بندی کی ہے۔

تنظیم کے مطابق اس موقع پر مسلمان اور دیگر مذاہب کے افراد ایک ساتھ مل کر امن کے قیام اور دہشت گردی کا نشانہ بننے والے متاثرین کے لیے دعائیں مانگیں گے۔

متاثرین کی یاد میں قومی امن افطار کی سب سے بڑی تقریب لندن کی ریجنٹ پارک کے اسلامی کلچرل سینٹر میں منعقد کی جائے گی۔

دس برس قبل سات جولائی کو لندن میں تین زیر زمین ریلوے اسٹیشنوں اور ایک بس میں ہونے والے خود کش حملوں کے نتیجے میں 52 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

ان حملوں میں تنویر شہزاد، لنڈسے جرمین، حسیب حسن اور محمد صدیق نامی ملزمان ملوث پائے گئے تھے۔

گزشتہ ہفتے مسلم تنظیموں نے برطانوی مساجد کے آئمہ کرام پر زور دیا تھا کہ وہ جمعے کے خطبات میں لندن حملوں کا خاص طور پر تذکرہ کریں۔

'مسلم کونسل آف بریٹن' کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ لندن میں سات جولائی کے حملوں کے بعد سے برطانیہ بھر میں اسلامو فوبیا میں اضافہ ہوا ہے اور برطانوی مسلم کونسل تمام برادریوں کو متحد کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG