رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو چیف کی افغانستان سے امریکہ کے سست انخلا کی حمایت


نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’اس وقت افغانستان میں فوجی موجودگی کے سلسلے میں کہوں گا کہ ہم اکٹھے وہاں گئے تھے اور ہم اکٹھے ہی وہاں سے نکلیں گے۔‘‘

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس سٹولنبرگ نے افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء کو سست کرنے کے امریکی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس خیال کو رد کیا کہ واشنگٹن اور نیٹو کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سٹولنبرگ نے کہا کہ ’’میں امریکہ اور صدر اوباما کی طرف سے دکھائی گئی لچک کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ افغانستان کی مدد اور حمایت کے سلسلے میں امریکہ اور نیٹو کا عزم مضبوط ہے۔‘‘

اوباما نے منگل کو انخلاء کے منصوبے میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں تعینات 98,00 امریکی فوجی سال کے اختتام تک وہیں رہیں گے۔ اس سے پہلے اس منصوبے میں کہا گیا تھا کہ اس سال کے اختتام تک فوجیوں کی تعداد کم کر کے نصف کر دی جائے گی۔

سٹولنبرگ کے مطابق امریکہ کی طرف سے انخلاء کے منصوبے میں تبدیلی سے نیٹو پر اثر پڑے گا۔ نیٹو افواج افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت اور معاونت کے پروگرام ’آپریشن ریزولیوٹ سپورٹ‘ کے دوران افغانستان میں موجود رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت افغانستان میں فوجی موجودگی کے سلسلے میں کہوں گا کہ ہم اکٹھے وہاں گئے تھے اور ہم اکٹھے ہی وہاں سے نکلیں گے۔‘‘

سٹولنبرگ کانگریس کے رہنماؤں اور حکام سے ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچے تو انہوں نے صدر اوباما سے ملاقات نہیں کی جس سے نیٹو اور اوباما انتظامیہ کے درمیان تعلقات کے متعلق تشویش پیدا ہوئی تھی۔

تاہم سٹولنبرگ نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ’’نیٹو تنظیم اور امریکہ کے درمیان تعاون نہایت اچھا ہے۔‘‘

جمعرات کو سٹولنبرگ نے اوباما کی قومی سلامتی امور کی مشیر سوزن رائس سے ملاقات کی جس میں سوزن رائس نے ان کو صدر کی طرف سے مئی میں امریکہ کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

XS
SM
MD
LG