رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریا: پرتشدد حملوں میں 200 افراد ہلاک


نائیجریا کے مرکزی شہر جاس میں فوجی دستے گشت کررہے ہیں جہاں ایک دن قبل تین مضافاتی بستیوں میں گینگز نے کم ازکم دو سوافراد کو ہلاک کردیاتھا۔

نائیجریا کی پلاٹیو ریاست کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد پانچ سو تک پہنچ سکتی ہے ، لیکن سرکاری عہدےد ار اور امدادی کارکن ابھی تک تمام نعشوں کی تلاش اور ان کی گنتی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ فولانی نسل کے چرواہوں نے ، جو کہ زیاد ہ تر مسلمان ہیں، اتوار کے روز مقامی وقت کے مطابق علی الصبح تین بجے عیسائی اکثریتی بستیوں پر حملے کیے۔ انہوں نے گھروں کو نذرآتش کردیا اور لوگوں پر چاقوں اور کلہاڑیوں سے وار کیے۔

کچھ عینی شاہدوں نے بتایا ہے کہ یہ حملے جنوری کے اس مذہبی تشدد کے جواب میں انتقامی طور پر کیے گئے تھے جس میں تین سو سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

جاس اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں تب سے رات کا کرفیو نافذ ہے اور مقامی باشندے یہ سوال کررہے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز اتوار کے روز ہونے والے حملے کو کیوں نہیں روک سکیں۔

نائیجیریا کے قائمقام صدر گڈلک جوناتھن نےممکنہ انتقامی حملوں کی روک تھام اور قاتلوں کے گروہوں کو پکڑنے کے لیے علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو ریڈ الرٹ کردیا ہے۔

پلاٹیوکی ریاستی حکومت کے ایک مشیر ڈین منجانگ نے کہا ہے کہ ان حملوں کے سلسلے میں 95 افراد کو گرفتار کیا جاچکاہے۔

جاس میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان کشیدگی اور تشدد کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس سے قبل اس شہر میں 2008ء میں تشدد کے واقعات میں تقریباً دوسو، 2004ء میں سات سو اور 2001ء میں ایک ہزار لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG