رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریا میں صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ


نائیجیریا میں صدارتی انتخابات کے لیے ہفتے کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ انتخابات میں تقریباً سات کروڑ سے زائد ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

ہفتے کو ووٹنگ کے آغاز سے قبل نائیجیریا کے شمال مشرقی قصبے میدوگوری میں دھماکے کی آواز سنی گئی لیکن اس کی نوعیت کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

شدت پسند گروپ بوکو حرام متعدد بار اس علاقے کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کا کہنا ہے کہ نائیجیریا کے شمال مشرق میں واقع ایک اور قصبے میں شدت پسندوں نے پولنگ کے آغاز سے قبل حملہ کیا جس کی وجہ سے علاقہ مکین محفوظ مقام پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

ایک مقامی رہائشی نے بتایا ہے کہ سیکڑوں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور انہوں نے جان بچانے کے لیے جھاڑیوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

نائیجیریا کے صدر محمد بخاری نے جمعے کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات کے موقع پر پورے ملک میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور لوگ بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشن جا کر اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔

یوں تو صدارتی انتخاب میں 73 امیدوار میدان میں ہیں لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بخاری اور حزبِ اختلاف کے امیدوار عتیق ابوبکر کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع ہے۔

صدارتی انتخابات گزشتہ ہفتے ہونا تھا لیکن نائیجیریا کے الیکشن کمیشن پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے باعث ووٹرز کی بڑی تعداد کو پولنگ اسٹیشن سے مایوس واپس لوٹنا پڑا تھا۔

انتخابات کے التوا کی بنیادی وجہ انتخابی مواد خصوصاً بیلٹ پیپرز کو پولنگ اسٹیشنز تک بروقت پہنچانے میں ناکامی تھی۔

صدارتی انتخاب کے لیے ملک بھر میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2015ء میں بھی حکام کو نائیجیریا میں بوکو حرام کے حملوں کے خدشے کے پیشِ نظر چھ ہفتوں کے لیے انتخابات ملتوی کرنا پڑے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG