رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا: کم جونگ ال کے انتقال کی دوسری برسی کی تقاریب


مسٹر کم جونگ اُن نے منگل کو پیانگ یانگ کے ایک بڑے ہال میں برسی کی مرکزی تقریب میں ملک کے دیگر سیاسی و فوجی رہنماؤں کے ہمراہ شرکت کی، جہاں اُن کے والد کم جو نگ ال کی ایک بڑی تصویر آویزاں کی گئی ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن اپنے والد کے انتقال کی دوسری برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب کی قیادت کر رہے ہیں۔

ملک میں ان تقاریب کے آغاز سے محض چند روز قبل ہی مسٹر کم جونگ اُن کے پھوپھا اور ملک میں دوسرے بااثر رہنماء جونگ سونگ تیک کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

مسٹر کم جونگ اُن نے منگل کو پیانگ یانگ کے ایک بڑے ہال میں برسی کی مرکزی تقریب میں ملک کے دیگر سیاسی و فوجی رہنماؤں کے ہمراہ شرکت کی، جہاں اُن کے والد کم جو نگ ال کی ایک بڑی تصویر آویزاں کی گئی ہے۔

تقریب سے خطاب کرنے والوں میں ملک کی طاقتور فوج کے ’پولیٹکل ڈیپارٹمنٹ‘ کے جنرل چاؤ رائینگ ہائی بھی شامل تھے۔

اُنھوں نے ملک کے آنجہانی رہنما کم جونگ ال کی ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی انقلابی فوجی پالیسی کے باعث ملک کو کامیابی ملی۔

تقریب میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی مسٹر کم کے خاندان سے وفاداری کا اعادہ کیا اور ملک کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں دینے سے بھی گریز نا کرنے کے وعدے کیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جب سے نوجوان کم جونگ اُن نے حکومت سنبھالی ملک نے ترقی کی ہے۔

مسٹر کم دسمبر 2011ء میں انتقال کر گئے تھے اور اقتدار کم تجربہ کار بیٹے کم جونگ اُن کو منتقل ہو گیا، جنہوں نے اپنے قدم جمانے اور مزید طاقت حاصل کرنے کی کوشش میں ملک کے کئی سینیئر رہنماؤں کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا۔

گزشتہ ہفتے ہی پیانگ یانگ نے اعلان کیا کہ جونگ سونگ تیک کو سنائی گئی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔ کم جونگ اُن کے والد کے انتقال کے بعد جونگ سونگ ہی مسٹر اُن کے استاد کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔

مسٹر کم جونگ اُن کی حکومت کے اس اقدام پر پڑوسی ملک جنوبی کوریا اور دیگر ممالک نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG