رسائی کے لنکس

باہمی تعلقات میں بہتری لانے کی غرض سے شمالی اور جنوبی کوریا نے منگل کے روز فوجی سطح کی بات چیت پر اتفاق کیا ہے۔ اس بات کا اعلان دونوں ملکوں نے دو سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنی پہلی باضابطہ گفت و شنید کے بعد کیا۔

متحارب ملکوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ’’موجودہ فوجی تناؤ میں کمی لائی جائے، اور اس معاملے کے حل کے لیے فوجی سطح کے مذاکرات کیے جائیں‘‘۔

منگل ہی کے روز شمالی کوریا ’پیونگ چونگ اولمپکس‘ میں شرکت پر بھی رضامند ہوا، جو فروری میں جنوبی کوریا میں منعقد ہوں گے۔

یہ سمجھوتے منگل کے روز ’پانمون جوم‘ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی بین الکوریائی مذاکرات کے بعد سامنے آئے، جسے خودساختہ ’’امن کا گاؤں‘‘ قرار دیا گیا ہے، جو سرحد کے دونوں اطراف بسا ہوا ہے۔ اسی مقام پر 1953ء میں عارضی صلح ہوئی تھی، جہاں کوریائی جنگ کے خاتمے کے سمجھوتے پر دستخط کئے گئے تھے۔

مذاکرات کا مقصد اولمپکس میں شمالی کوریا کی شرکت کے لیے سہولت کاری فراہم کرنا اور شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تشکیل دینے کے پروگرام پر موجودہ شدید تناؤ میں کمی لانے کا طریقہٴ کار تلاش کرنا ہے۔

بعدازاں، وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے موسم سرما کے اولمپکس ایک ’’اعلیٰ سطحی‘‘ وفد بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جب کہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سمجھوتے کو سراہا ہے۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’حکومت کے لیے شمالی کوریا کی شرکت ایک موقع فراہم کرتی ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے اور بین الاقوامی سطح پر شمالی کوریا کے اکیلے پن کو ختم کرنے کی سعی میں مدد دینا شامل ہوگا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG