رسائی کے لنکس

logo-print

این پی ٹی کانفرنس سے چین اور روس کا خطاب


دو بڑی جوہری طاقتوں چین اور روس کے نمائیندے اُن مندوبین میں شامل ہیں جو منگل کے روز اقوامِ متحدہ میں جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کی روک تھام یا این پی ٹی کے بارے میں کانفرنس سے خطاب کرنے والے ہیں۔

امریکہ ان دونوں ملکوں کے ساتھ مذاکرات کرتا رہا ہے، جن کا مقصد ایران کو یورینیم افزودہ کرنے سے باز رکھنے کی خاطر، تہران پر دباؤ ڈالنےکے لیے اُس ملک کے خلاف ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی ایک اور قسط کو منظور کرانا ہے۔

اسی دوران ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے وہ نیوز کانفرنس منسوخ کردی ہے ، جس سے وہ منگل کے روز نیو یارک میں خطاب کرنے کا ارداہ رکھتے تھے۔ اس سے ایک روز پہلے انہوں نے این پی ٹی کانفرنس کے مندوبین سے کہا تھا امریکہ نے جوہری ہتھار بناتے ہوئے اسی قسم کے ہتھیار بنانے کے لیے دوسرے ملکوں کی حوصلہ افزائى کی۔

ایرانی صدر اب نیوز کانفرنس کی بجائے منگل کے روز نیو یارک میں اپنے ہوٹل میں ذرائع ابلاغ کے صرف اُن افراد سے ملاقات کررہے ہیں، جنہیں ملنے کی دعوت دی گئى ہے۔

منگل کے روز اس سے پہلے ایران نے امریکہ کی جانب سے اپنے جوہری اسلحہ خانے کے سائز کے انکشاف کی غیر جانبدار تصدیق کا مطالبہ کیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے سوال کیا کہ امریکہ کے پاس 5000 ہزار سے زیادہ جوہری بم رکھنے کا کیا جواز ہے۔

XS
SM
MD
LG