رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباما کی یورپی یونین کونسل کے صدر سے ملاقات


یورپی یونین کونسل کے صدر ٹسک نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان اس سے پہلے اتحاد کی کبھی بھی اتنی ضرورت نہیں رہی۔

امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ بحیرہ اوقیانوس کے آرپار اتحاد کبھی بھی اتنا مضبوط نہیں رہا جتنا اب ہے جبکہ مغرب یوکرین میں روسی جارحیت کا مقابلہ کر رہا ہے۔

اس بات کا اظہار انہوں نے پیر کو یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کی موجودگی میں ان سے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے دیا۔

پولینڈ کے سابق وزیر اعظم ٹسک کا وائٹ ہاؤس میں خیر مقدم کرتے ہوئے صدر اوباما نے مغرب کو درپیش اہم چیلنج کا ذکر کیا جن میں سب سے قابل ذکر یوکرین کی صورت حال ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ "ہم سب خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے بنیادی اصولوں کی بالا دستی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں جو روسی جارحیت کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔ ہم پابندیوں (روس کے خلاف) کے حوالے سے ایک مضبوط اتحاد پر قائم ہیں"۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ روس اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسند منسک معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہے ہیں اور مشرقی یوکرین میں تشدد بھڑک رہا ہے، لہذا اس اتحاد کا اظہار اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔

پیر کو یورپی یونین کونسل کے صدر ٹسک نے کہا کہ یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان اس سے پہلے اتحاد کی کبھی بھی اتنی ضرورت نہیں رہی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا آزادی، جمہوریت کی اقدار اور جغرافیائی نظم و ضبط پر حملے کو دیکھ رہی ہے۔

"ہم بہت واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ وہ ہمیں یورپ کے اندر سے اور امریکہ اور یورپ کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ہم متحد ہیں اور ہم روس کی جارحانہ پالیسی کو رد کر دیں گے"۔

امریکہ اور یورپی یونین روس کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کے لیے اکٹھے ہیں جس کی وجہ سے تجزیہ کاروں کے بقول ماسکو کی معیشت پر بڑا منفی اثر پڑا ہے۔

تاہم اوباما انتظامیہ کی پالیسی کے نقادوں نے امریکہ سے روس اور روس کے حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں سے نمٹنے کے مزید اقدام کا مطالبہ کیا ہے جس میں یوکرین کو فوجی امداد بھیجنا بھی شامل ہے جس کی اوباما اب تک مزاحمت کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG