رسائی کے لنکس

logo-print

ریپبلیکنر کے ساتھ صدر کی ملاقات ’اچھا آغاز‘ ہے: بینر


’میرے خیال میں، ہم نے بہت ہی بے ساختہ اور دلیرانہ انداز میں بے تکلف تبادلہٴخیال کیا۔ میرے خیال میں، بات چیت کارآمد تھی‘: اسپکیر

صدر براک اوباما نےقانون سازوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان میں ریپبلیکن پارٹی کے ارکان سے ملاقات کی۔ ایوان میں آمد پرصدر کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا، لیکن آپس کے مؤقف میں واضح دوریاں اب بھی نمایاں ہیں۔


ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان کےاسپیکر، جان بینرنے، جو صدر اوباما کے سخت سیاسی مخالف ہیں، ملاقات کو ’ایک اچھا آغاز‘ قرار دیا۔


اُن کا کہنا تھا کہ آج پارلیمان آکر ، ’ہمارے تمام ارکان سے ملنے پر، میں صدر کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘۔


بینر کے بقول، ’میرے خیال میں، ہم نے بہت ہی بے ساختہ اور دلیرانہ انداز میں بے تکلف تبادلہٴ خیال کیا۔ میرے خیال میں، بات چیت کارآمد تھی‘۔

ایک بیان میں، وائٹ ہاؤس نے ملاقات کو ’اچھا اور سیر حاصل تبادلہٴ خیال‘ قرار دیا۔

اب بھی، ریپبلیکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کئی معاملات پر نااتفاقی ہے، جِن میں امیگریشن کی اصلاحات، گن کنٹرول اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات شامل ہیں۔

اُن کے مابین خاص تنازع اِس بات پر ہے کہ خسارے کو کس طریقےسے کم کیا جائے۔ انتظامیہ اِس بات کی خواہاں ہے کہ خسارے کو اخراجات میں کٹوتی اور ٹیکس میں اضافے کےذریعےکم کیا جائے، جب کہ ریپبلیکنز ٹیکسز میں اضافے کے خلاف ہیں۔

ملاقات کے بعد، بینر نے کہا کہ نااتفاقی اب بھی باقی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شاید صدر یہ سمجھتے ہیں کہ ایک طویل عرصے تک کے لیے اخراجات پر کوئی سمجھوتا طے پاجائےگا، لیکن یوں یرغمال بننے کا مطلب یہ ہوگا کہ امریکیوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے۔ اِس طرح سے معاملات آگے نہیں بڑھیں گے۔

اِس سے قبل، وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جے کارنی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدرسمجھتے ہیں کہ ایوان کے دونوں طرف سے تعاون ممکن ہے، اور وہ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے متمنی ہے۔


کارنی کے بقول، اُنھوں نے تجاویز سامنے رکھی ہیں جو اُن کے اِس عزم کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ مشکل فیصلوں کے لیے تیار ہیں، تاکہ یکساں سطح تک پہنچنے کے لیے ریپبلیکنز کے مؤقف کے آدھے تک جایا جائے۔ اور اِسی طرح اُنھیں یقیناً یہ توقع ہے کہ ریپبلیکنز بھی اِسی طرح کی ہی تجاویز سامنے لائیں گے۔

اوباما اسپیکر بینر کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتیں کر چکے ہیں، تاہم ایوان کے ریپبلیکنز کے ساتھ گروپ کی شکل میں بدھ کے روز ہونے والی ملاقات 2010ء سے اب تک اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات ہے۔

صدر نے اب تک ریپبلیکنز پارٹی کے قانون سازوں کے ساتھ جو ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے، یہ تازہ ترین ملاقات اُسی کی ایک کڑی ہے، جس کا واضح مقصد دونوں پارٹیوں کے درمیان حائل دوریوں کےخلیج کوکم کرنے کی کوشش کرناہے۔

گذشتہ ہفتے، اوباما نے ریپبلیکن پارٹی کے 12سینیٹروں کوکھانے پر مدعو کیا۔ اگلے روز، اُنھوں نے ایوان کی بجٹ پر قائمہ کمیٹی کے سربراہ، پال رائن اور کمیٹی میں ڈیموکریٹک پارٹی کے چوٹی کے رکن کو ایک ظہرانے پر بلایا، جس کا اہتمام وائٹ ہاؤس میں کیا گیا۔ کارنی نے کہا کہ صدر اوباما اِن ملاقاتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG