رسائی کے لنکس

logo-print

دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی 'اگلے مرحلے' میں داخل ہو گئی ہے: اوباما


صدر کے بہت سے ریپبلکن ناقدین امریکی اور بین الاقوامی حمایت کے باجود شدت پسندوں کے خلاف عراقی فورسز کے ڈٹ جانے کی صلاحیت پر شبے کا اظہار کر رہے ہیں۔

صدر براک اوباما کہتے ہیں کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو دوگنا کرنے کا ان کا فیصلہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

یہ بات انھوں نے ایک امریکی ٹیلی ویژن "سی بی ایس" کے نیوز پروگرام "فیس دی نیشن" میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

عراق سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا وعدہ کرنے والے صدر نے وہاں اضافی 1500 فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جو دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی کے لیے عراقی فوج کی تربیت کو مزید تیز کریں گے۔

صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی زیر قیادت فضائی کارروائیاں دولت اسلامیہ کے خلاف کارگر رہی ہیں اور اس سے شدت پسندوں کی صلاحیتیں متاثر اور ان کی پیش قدمی سست ہوئی ہے۔

ان کے بقول اب وہاں مزید جارحانہ کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔

"اب ہمیں زمینی فوج کی ضرورت ہے، عراقی زمینی فوج، جو شدت پسندوں کو پسپا کرنے کی شروعات کر سکے۔"

صدر کے بہت سے ریپبلکن ناقدین امریکی اور بین الاقوامی حمایت کے باجود شدت پسندوں کے خلاف عراقی فورسز کے ڈٹ جانے کی صلاحیت پر شبے کا اظہار کر رہے ہیں۔

کانگریس مین ڈیرل اسسا کہتے ہیں کہ " جب سابقہ عراقی حکومت کی طرف سے پیدا کردہ شیعہ-سنی تفریق کو دیکھا جائے تو ایک ایسی فوج کو جمع کرنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے جیسی فوج ہونی چاہیے۔"

ان کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ "جن آٹھ لاکھ لوگوں کو ہم نے تربیت دی وہ لڑائی کے لیے تیار بھی ہیں یا نہیں۔"

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اضافی امریکی فورسز نو عراقی بریگیڈز اور کرد پیش مرگہ فورسز کے تین بریگیڈز کو تربیت دیں گے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے باجود صدر اوباما یہ کہتے آرہے ہیں کہ یہ فوجی وہاں لڑائی میں حصہ نہیں لیں گے۔

XS
SM
MD
LG