رسائی کے لنکس

logo-print

کیا صدر اوباما کی مقبولیت کا گرتا ہوا گراف سینٹ کے انتخابات پر اثرانداز ہوسکتا ہے؟



ایک سال قبل اپنا عہدہ سنبھالتے وقت صدر اوباما کی مقبولیت کا گراف بہت بلند تھا اورتبدیلی کے اپنے نعرے کے پیش نظر لوگوں کوان سے بہت سی توقعات تھیں ۔ لیکن رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے میں کہا گیا ہے کہ دوسرے سال کے آغاز میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے ۔صرف یہی نہیں بلکہ ڈیمکو کریٹک پارٹی کے روایتی حامی بھی صدر اوباما پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اور کیا اس سے نومبر کے سینیٹ کے انتخابات متاثر ہوسکتے ہیں؟

صدر اوباما جب امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے ، تو انہیں آزاد ڈیمو کریٹس کی حمایت بھی حاصل تھی ۔انہیں یقین تھا کہ جس شخص کو ایک امریکی جریدے نے امریکہ کا سب سے لبرل ڈیمو کریٹ قرار دیا تھا انہیں مایوس نہیں کرے گا ۔لیکن اب وہ کچھ بے یقینی کا شکار نظر آرہے ہیں ۔رچرڈ ٹرومکا امریکہ کی سب سے بڑی مزدور یونین ،اے ایف ایل ۔سی آئی او کے سر براہ ہیں ، ایک حالیہ تقریر میں ، ٹرومکا کو بار بار صدر اوباما کی جانب سے جلدی نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔

ان کا کہنا ہے کہ اب ہمیشہ سے زیادہ ہمیں جرات کی ضرورت ہے اور سمیت کا جتنا واضح تعین ہم نے دو ہزار آٹھ کی صدارتی مہم کے دوران دیکھا تھا ، جب انہوں نے ملک کو درپیش معاشی مشکلات کا خاکہ پیش کیا تھا ۔۔صدر اوباما نے حلف برداری کے وقت اپنے خطاب میں کہا تھا کہ معاشی صورتحال جرات مندانہ اور فوری اقدامات کی متقاضی ہے ۔ اور ہم نئی ملازمتوں ہی مہیا نہیں کریں گے بلکہ معاشی ترقی کی نئی بنیاد قائم کریں گے۔ وقت آگیا ہے کہ ان وعدوں کو سچ ثابت کیا جائے ۔

سیاسی مبصر ین کہتے ہیں کہ صدر اوباما کئی مشکل مسائل سے دوچار ہیں جو آسانی سے حل نہیں ہو سکتے ۔دو جنگیں ، صحت عامہ کی اصلاحات ، بے روزگاری کی بلندترین شرح ۔گیلپ کے ایک نئے جائزے کے مطابق صدارت کے دوسرے سال کے آغاز پر صدر اوباما کی غیر مقبولیت امریکی تاریخ کے سب سے غیر مقبول صدر رونلڈ ریگن کے قریب پہنچ گئی ہے ۔

شہری آزادیوں کے علمبردار جولین بونڈ کہتے ہیں کہ ان جیسے غیر روایت پسند کبھی مطمئن ہو ہی نہیں سکتے

ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں کچھ لوگوں کی توقعات ہی غیر حقیقی تھیں ،کہ اوباما کو منتخب کرنے سے جادوکی چھڑی ہاتھ لگ جائے گی ، سارا ملک تبدیل ہو جائے گا ۔ایسی توقعات پوری ہو نا ممکن نہیں تھا ۔

کچھ تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ صدر اوباما کی کارکردگی سے عدم اطمینان اس سال نومبر میں ہونے والے کانگریشنل الیکشنز کے نتائج پر اثر انداز ہوگا۔ کئی اہم ڈیمو کریٹک اراکین عہدے چھوڑنے کا عندیہ دے چکے ہیں ،اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ڈیمو کریٹک پارٹی کو کانگریس میں اپنا کنٹرول قائم رکھنا ہے تو صدر اوباما کی جانب سے اگلے مہینے کے دوران انتہائی مضبوط قائدانہ کردار کا مظاہرہ لازمی ہوگا۔ کین واش ایک امریکی جریدے کے لئے وائٹ ہاوس سے رپورٹنگ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہائٹ ہاوس میں اب بھی سب کا یہ خیال ہے کہ 2010ء ان کے لئے اچھا ثابت ہوگا لیکن اس بات کا زیادہ انحصارکانگریس کے وسط مدتی انتخابات پر ہوگا ۔اس وقت صورتحال کچھ زیادہ خوشگوار نہیں مگر ابھی ان کے پاس پورا سال ہے ۔

گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے گیلپ کے نئے جائزے کے مطابق امریکی عوام میں صدر اوباما کی مقبولیت کا تناسب جو انتخاب جیتنے کے وقت اڑسٹھ فیصد تھا ، کم ہوکر پچاس فیصد تک آگیا ہے ۔ جائزہ مرتب کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے صدر اوباما کی مقبولیت میں کمی آرہی ہے ، وہ اس بات کی وارننگ ہے کہ صدر اوباما اکثریت کی حمایت سے محروم ہونے والے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG