رسائی کے لنکس

logo-print

عراق جنگ کے خاتمے پر اوباما کے خطاب سے اقتباسات


اقتباسات:

‘‘ ۔۔۔آج رات میں یہ اعلان کر رہا ہوں کہ عراق میں امریکہ کا جنگی مشن ختم ہوگیا ہے۔ آپریشن عراقی فریڈم اختتام کو پہنچا اور اب عراق کے عوام کو اپنے وطن کے دفاع کی ذمہ داری میں فوقیت حاصل ہے۔

میں نے صدارتی امیدوار کے طور پر امریکی عوام سے اِس بات کا عہد کیا تھا۔ گذشتہ فروری میں مَیں نے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا جِس کے تحت عراق سے ہمارے جنگی بریگیڈ کو واپس لانا، جب کہ عراق کی سکیورٹی فورسز کو مضبوط کرنا اور اُس کی حکومت اور عوام کو اعانت فراہم کرنے کی کوششوں کو دوگنا کرنا تھا۔

یہ وہ کام ہے جو ہم نے کیا ہے۔ ہم نے لگ بھگ ایک لاکھ امریکی فوجی عراق سے نکال لیے ہیں۔ ہم نے سینکڑوں اڈے بند کردیے ہیں یا اُن کا کنٹرول عراقیوں کو سونپ دیا ہے اور ہم نے لاکھوں کی تعداد میں سازو سامان عراق سے منتقل کردیا ہے۔۔۔

امسال۔۔۔عراق میں قابلِ اعتبار انتخابات کا انعقاد ہوا جِس میں عوام کی بھاری تعداد نے حصہ لیا۔ اِس وقت جب کہ عراقی عوام اُن کے نتائج کی بنیاد پر حکومت تشکیل دینے میں مصروف ہیں، ملک کا انتظام ایک عبوری انتظامیہ چلا رہی ہے۔ آج شب مَیں عراقی رہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں کہ وہ ایک انصاف پسند، نمائندہ اور عراقی عوام کو جوابدہ وسیع البنیاد حکومت کی تشکیل کے لیے تیزی سے آگے بڑھیں اور جب وہ حکومت اپنی ذمہ داریاں سنبھال لے تو اِن باتوں میں کوئی شبہ نہیں رہنا چاہئیے کہ عراقی عوام امریکہ کی شکل میں ایک مضبوط اشتراک کار پائیں گے۔ ہمارا جنگی مشن اختتام پذیر ہو رہا ہے لیکن عراق کے مستقبل کے حوالے سے ہمارے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔

آگے بڑھتے ہیں۔ امریکی فوجیوں کی عبوری فورس ایک مختلف مقصد کے لیے عراق میں تعینات رہے گی: عراق کی سکیورٹی فورسز کو مشاورت اور اعانت فراہم کرنا، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں عراقی فوجیوں کی مدد کرنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا۔

حکومت ِ عراق سے ہمارے معاہدے کی رُو سے تمام امریکی فوجی آئندہ سال کے آخر تک عراق چھوڑ دیں گے۔ ہماری فوج کی تعداد میں کمی کے ساتھ ہمارے پُر عزم شہری، جِن میں سفارت کار، امدادی کارکن اور مشیر شامل ہیں، عراقی حکومت کو مستحکم کرنے، سیاسی تنازعات کے حل، جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے لوگوں کی آبادکار ی اور خطے اور دنیا بھر سے تعلقات استوار کرنے کے لیے عراق کو اعانت فراہم کرنے میں سب سے آگے ہیں۔۔۔

ہماری جمہوریت کی عظمت ہمارے اختلافات سے ہٹ کر آگے بڑھنے کی صلاحیت اور اپنے تجربے سے سیکھنے میں مضمر ہے، جب ہم پیش آنے والے متعدد چیلنجوں کا سامنا کرتے ہیں اور القاعدہ کے خلاف لڑائی سے کہیں زیادہ کوئی اور چیلنج ہماری سلامتی کے لیے ضروری نہیں ہے۔

تمام سیاسی نظریات کے حامل امریکیوں نے اُن عناصر کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت کی تھی جنھوں نے 11ستمبر کو ہم پر حملہ کیا تھا۔ اب جب کہ افغانستان میں ہماری لڑائی کو دس سال ہونے کو ہیں، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ہمارے مشن کے بارے میں بجا طور پر سخت سوالات اُٹھانے لگے ہیں، لیکن ہمیں یہ حقیقت کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دینی چاہئیے کہ کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ القاعدہ بدستور ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے اور اِس کی قیادت افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہے۔ ہم القاعدہ کی بیخ کنی کریں گے اور اسے شکست دیں گے اور افغانستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کا گڑھ بننے سے روکیں گے۔ اور اب عراق سے اپنے انخلا کے بعد ہم اِس قابل ہیں کہ حملے کے لیے ضروری وسائل بروئے کار لائیں۔ درحقیقت گذشتہ 19مہینوں کے دوران دنیابھر میں القاعدہ کے لگ بھگ ایک درجن رہنما اور اُس کے سینکڑوں انتہا پسند حلیف مارے گئے یا پکڑے گئے ہیں۔

افغانستان میں مَیں نے اضافی فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے جو جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کی کمان میں طالبان کا زور توڑنے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جیسا کہ عراق میں ہوا، یہ فوجیں محدود مدت کے لیے یہاں تعینات کی جائیں گی تاکہ افغان عوام کواپنی اہلیت بڑھانے اور اپنا مستقبل محفوظ بنانے کا موقع ملے۔ لیکن جیسا کہ عراق میں ہوا تھا، ہم افغان عوام کے لیے کچھ نہیں کر سکتے جو اُنھیں بالآخر خود کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم افغان سکیورٹی فورسز کو تربیت دے رہے ہیں اور افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے معاونت فراہم کر رہے ہیں اور اگلے سال اگست میں ہم افغانستان میں ذمہ داریوں کی منتقلی کا عمل شروع کریں گے۔ فوجوں میں کمی کی رفتار کا تعین زمینی صورتِ حال کے مطابق ہوگا اور افغانستان کےلیے ہماری حمایت برقرار رہے گی۔ لیکن کوئی غلط فہمی میں نہ رہے: یہ منتقلی شروع ہوگی، کیونکہ ایسی جنگ جِس کا کوئی اختتام نہ ہو، نہ ہمارے مفاد میں ہے اور نہ افغان عوام کے مفاد میں۔

بلاشبہ عراق میں ہماری کوشش سے ہم نے ایک سبق سیکھا ہے کہ دنیا بھر میں امریکی اثرو نفوذ محض فوجی طاقت کا ہی کام نہیں ہے۔

ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ اپنے حلیفوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے اپنی طاقت کے تمام عناصر، بشمول اپنی سفارت کاری، اپنی اقتصادی قوت اور امریکی مثال کی طاقت کو بروئے کار لانا ہوگا، اور ہمیں مستقبل کے ایک ایسے تصور کو اجاگر کرنا ہوگا جو محض ہمارے خوف پر ہی نہیں بلکہ ہماری امیدوں پر بھی مبنی ہو۔ ایک ایسا تصور جِس میں دنیا میں موجود حقیقی خطرات کے ساتھ ساتھ ہمارے دور میں لامحدود امکانات کو بھی تسلیم کیا گیا ہو۔۔۔’’

XS
SM
MD
LG