رسائی کے لنکس

logo-print

قرضوں کا بحران، اوباما کا 'دباؤ' قبول کرنے سے انکار


امریکی صدر کے مشیروں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس نے سرکاری قرضوں کی حد میں اضافہ نہ کیا تو امریکہ نادہندہ ریاست قرار پاسکتا ہے۔

امریکی حکام نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما امریکہ پر نادہندہ ہونے کے منڈلاتے ہوئے خطرات کے دباؤ میں آکر 'ری پبلکن' قانون سازوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

'وہائٹ ہاؤس' کی 'نیشنل اکنامک کونسل' کے ڈائریکٹر جین اسپرلنگ کے بقول امریکی حکومت کی جانب سے لیے جانے والے بیرونی قرضوں کی حد میں اضافے کا فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے اور اوباما انتظامیہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔

پیر کو ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے 'وہائٹ ہاؤس' کے مشیر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی سیاسی جماعت نے امریکہ کے نادہندہ ہونے کے خطرات کی بنیاد پر کوئی پالیسی بنانے کے لیے دباؤ ڈالا ہو۔

صدر اوباما کے اقتصادی مشیر کا یہ بیان امریکی ایوانِ نمائندگان کے 'ری پبلکن' اسپیکر جان بینر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکی حکومت کے 'شٹ ڈاؤن' اور سرکاری قرضوں کی حد میں اضافے کی 'ڈیڈلائن' سے متعلق اپنی جماعت کے موقف میں تبدیلی نہ لانے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی حکومت ملکی و بین الاقوامی معاشی اداروں سے 167 کھرب ڈالر تک قرض لینے کی مجاز تھی جو وہ پہلے ہی لے چکی ہے۔

اب امریکی حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرض لینے کی ضرورت ہے لیکن وہ قانونی پابندی کے باعث اس وقت تک ایسا نہیں کرسکتی جب تک کانگریس قرضوں کی اس حد میں اضافہ نہیں کردیتی۔

امریکی کانگریس کو 17 اکتوبر تک اس حد میں اضافہ کرنا ہے لیکن اسپیکر جان بینر واضح کرچکے ہیں کہ 'ری پبلکن' کی اکثریت والا ایوانِ نمائندگان اس وقت تک قرضوں کی حد میں اضافہ نہیں کرے گا جب تک صدر اوباما ان کے بعض مطالبات تسلیم نہیں کرلیتے۔

اسپیکر بینر کے اس موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر اوباما کے مشیر جین اسپرلنگ نے کہا ہے کہ قرضوں کی حد میں اضافے کو سیاسی مطالبات کی منظوری سے مشروط کرنا ایک خطرناک عمل ہے۔

جناب اسپرلنگ نے اپنی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ری پبلکن کی یہ پالیسی ایک "خطرناک" مثال بن سکتی ہے اور اگر مستقبل میں کوئی ری پبلکن صدر 'وہائٹ ہاؤس' میں ہوا تو اسے بھی اپنے مخالفین کی جانب سے ایسی صورتِ حال کا سامنا ہوسکتا ہے۔

'وہائٹ ہاؤس' حکام کا موقف ہے کہ امریکی آئین صدر کو کانگریس کی مرضی کے بغیر قرضوں کی حد میں اضافے کا اختیار نہیں دیتا۔

امریکی صدر کے مشیران برائے اقتصادی امور کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس نے سرکاری قرضوں کی حد میں اضافہ نہ کیا تو امریکہ اور امریکی حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں امریکہ نادہندہ ریاست بھی قرار پاسکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG