رسائی کے لنکس

logo-print

ترقی پذیر ممالک میں موٹے افراد کی تعداد ایک ارب ہوگئی:رپورٹ


گذشتہ تین دہائیوں میں امیرملکوں کے مقابلے میں غریب ممالک میں وزنی اور موٹے افراد کی تعداد میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔

عالمی سطح پر موٹاپے کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے حوالے سے برطانوی محققین نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ لگ بھگ تیس برس کے عرصے میں ترقی پذیر دنیا میں فربہ افراد کی تعداد میں چار گنا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ترقی پذیر ممالک میں وزنی یا فربہ افراد کی کل تعداد تقریباً ایک ارب تک جا پہنچی ہے۔

'اوورسیز ڈیویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ ' کی جائزہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک شخص وزن کی زیادتی یا موٹاپے کا شکار ہے لیکن گذشتہ تین دہائیوں میں امیرملکوں کے مقابلے میں غریب ممالک میں وزنی اور موٹے افراد کی تعداد میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا ہے ۔

برطانوی روزنامہ دی گارڈین کے مطابق فیوچر ڈائٹ نامی رپورٹ میں 1980 کی دہائی سے 2008 کے دوران دنیا بھر کے لوگوں کے کھانے پینے کے اعداد و شمار پر مبنی ایک تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے برسوں میں ترقی پذیر ممالک میں موٹاپا کسی وبائی مرض کی طرح پھیلا ہے اور 2008 کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ نسبتاً خوشحال ممالک میں 25 ماس انڈیکس سے زیادہ رکھنے والوں کی تعداد 904 ملین تک جا پہنچی ہے جبکہ 1980 میں کم ترقی یافتہ ملکوں میں فربہ افراد کی تعداد 250 ملین بتائی گئی تھی اس کے برعکس بلند آمدنی رکھنے والے ممالک میں وزنی یا فربہ افراد کی کل تعداد 557 ملین ہے۔

ریسرچ کے مصنف اسٹیو ویگنز نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں زیادہ وزن اور موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح خطرناک ہے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیےحکومتی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا "لوگوں کےکھانے پینے کےموجودہ رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ ، عالمی سطح پر کئی موذی امراض مثلا کینسر کی بعض اقسام، ذیا بیطس، ہارٹ اٹیک اور اسٹروک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔"

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ موٹاپے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن خوراک کا انسان کی صحت پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پرجن ممالک کے متوسط طبقے کی شہری آبادی کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے وہ اپنی من پسند خوراک کھانا پسند کرتے ہیں جو زیادہ تر فاسٹ فوڈ پر مشتمل ہوتی ہیں اسی طرح اشتہارات کی بھر مار نے لوگوں کو وقت بچانے اور جلد تیار ہوجانے والی ایسی ریڈی میڈ چیزیں کھانے کی طرف مائل کر دیا ہے جن میں نشاستہ اور چربی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ نشاستہ اور چکنائی کا استعمال آہستہ آہستہ لوگوں کو موٹاپے کی جانب دھکیل رہا ہے۔

تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر اگرچہ 1980 سے 2008 کے دوران موٹاپے کی شرح میں 23 فیصد سے 34 فیصد کا اضافہ نظر آیا ہے لیکن دنیا بھر میں فربہ افراد کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ہوا جہاں موٹاپے کی شرح کا گراف 7 فیصد سے 22 فیصد تک جا پہنچا۔

علاوہ ازیں انفرادی طور پر فربہ ممالک میں موٹے افراد کی اکثریت خاص طور پر ایسے ممالک میں نظر آئی جہاں آمدنیوں میں اضافہ ہوا ہے ان میں چین اور میکسیکو سر فہرست ہیں جہاں اس عرصے میں موٹے افراد کی تعداد میں دوگنا اضافہ ہوا، اسی طرح مشرق وسطی کی زیادہ تر ریاستوں میں تیس برس کے دوران موٹاپے کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی امریکہ میں اب بھی بالغ فربہ افراد کی شرح سب سے زیادہ ہے یعنی 70 فیصد ہے اس کے علاوہ 64 فیصد برطانوی شہریوں کو وزن کی ذیادتی یا موٹاپے کا شکار بتایا گیا ہے۔

مسٹر ویگنز نے حکومتوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فاسٹ فوڈ اور موٹاپا پیدا کرنے والی خوراک میں چربی کی مقدار کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر بالکل ویسے ہی اقدامات کرنے چاہیئں جیسے سگریٹ نوشی کے خلاف کئے گئے ہیں ۔
XS
SM
MD
LG