رسائی کے لنکس

logo-print

کشیدگی کےباعث اسٹریٹجک ڈائلاگ رابطے متاثر ہوئے ہیں: تجزیہ کار


حالیہ مہینوں میں پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک ڈائلاگ کے سلسلے میں رابطے بھی متاثر ہوئے تھے۔

پاکستان اور امریکہ کے روابط میں تناؤ کی وجہ رواں سال کے اوائل میں خفیہ ایجنسی سی آئی اے سے منسلک امریکی ریمنڈ ڈیوس کی لاہور میں گرفتاری اور پھر دو مئی کو شمالی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے مفرور راہنما اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈروں کی یکطرفہ کارروائی تھی۔

’وائس آف امریکہ‘ نے منگل کو ٹورنٹو میں اسٹریٹفر انسٹی ٹیوٹ کے جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری سے پوچھا کہ وزرا کی سطح پر پاک امریکہ ملاقات اسٹریٹجک ڈائلاگ کے لیے کیا اہمیت رکھتی ہے، جس پر اُنھوں نے کہا کہ ،’ایسا نہیں ہے کہ مکمل طور پر بات چیت کا سلسلہ کبھی منقطع ہوسکتا ہے۔ ‘

اُنھوں نے کہا کہ اگر پیش رفت کی بات کی جائے، ’تو، نہیں لگتا کہ کوئی پیش رفت ہوگی‘ اور اگر ہوگی تو براہِ راست سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان ہوگی، اور اِسے جی ایچ کیو اور پینٹگان کرے گا یا پھر امریکی وزیر خارجہ اپنے پاکستانی ہم منصب یا وزیر اعظم کی سطح پربات چیت ہوگی۔

ہونے والی اسٹریٹجک اجلاس کےبارے میں سوال پر کامران بخاری نے کہا کہ دوطرفہ اسٹریٹجک مکالمہ جاری رکھنا ضروری ہے، جبکہ، اُن کے بقول، دونوں فریقین کو معلوم ہے کہ کوئی پیش رفت متوقع نہیں ہے، جسکا باعث، اُنھوں نے دونوں جانب ایک دوسرے کے لیے ’بے اعتمادی اور شکوک و شبہات‘ کو قرار دیا۔

اعلیٰ سطح پر اسٹریٹجک ڈائلاگ شروع کرنے کے امکانات پر کامران بخاری کا کہنا تھا کہ ابھی تو امریکہ اور پاکستان کی طرف سے یہ فیصلہ کیا جانا باقی ہے، ’کہ افغانستان کو کس جانب لے کر جانا ہے، تب کہیں یہ معاملہ سلجھے گا‘۔

اُنھوں نےسوال اٹھایا کہ غور طلب طلب اہم بات یہ ہے کہ آخرپاکستان امریکہ کا اسٹریٹجک ڈائلاگ ہے کیا؟ اُن کے بقول ’ فی الحال، تو یہ سکیورٹی سے متعلق ہی ہے، اور سکیورٹی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان کا مستقبل کیا ہوگا ؟ پھر یہ کہ، ابھی تک امریکہ نے بات چیت کی حتمی سطح کے لیے پاکستان کو شامل نہیں کیا۔‘

اُن کے بقول، اگر اِس چیز کو مدِ نظر رکھا جائے تو اسٹریٹجک ڈائلاگ ، ’نہ اِدھر ہے نہ اُدھر ہے‘۔

کامران بخاری کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اندرونی سکیورٹی بھی افغانستان کے مسئلے سے نتھی ہے۔ توجیہ بیان کرتے ہوئے، اُنھوں نے افغانستان سے امریکی فوجوں کےانخلا کا ذکر کیا، جس کے بعد، اُن کے بقول، وہاں ایک خلا پیدا ہونا لازم ہے جِس کا پاکستان کی سکیورٹی پر براہِ راست اثر پڑے گا۔

اسلام آبادسے دفاعی تجزیہ کار اکرام سہگل کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے پر بے اعتمادی کے باوجود دونوںملکوں کے لیے یہ مکالمہ شروع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان و امریکہ کو اسٹریٹجک ڈائلاگ تو کرنا پڑے گا، کوئی پسند کرے یا نہ کرے۔

وجہ بیان کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج کے لیے تمام اسلحے اور سازو سامان کی نقل و حرکت پاکستان کے راستے سے جاری ہے۔ ’ پھر یہ کہ، پاکستانی فوج انسدادِ دہشت گردی کی کاوش میں شریک ہے اور اب تک کافی لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ ہم یہ بات پسند کریں نہ کریں، اتفاق کریں نہ کریں، ہم ایکساتھ منسلک ہیں‘۔

اکرام سہگل نے کہا کہ پاکستان کی اندرونی سکیورٹی عالمی دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جِس کے لیے، انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں پر توجہ دینی چاہیئے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کے مناسب اقدامات نہیں کیے جاتے، اُن کے الفاظ میں: ’آپ کچھ نہیں کرسکتے۔‘

اکرام سہگل کے بقول، دہشت گردی سے نبردآزما ہونےکے لیے پاکستان نے اچھا کام کیا ہے، لیکن جب تک صحیح معنوں میں کاؤنٹر انسرجینسی کا نفاذ نہیں کریں گے، مسئلہ باقی رہے گا، کیونکہ، ’آپ دہشت گردی سے کبھی نہیں لڑ سکتے۔چاہے آپ کچھ بھی کرلیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے کاؤنٹر ٹررازم یونٹ کی تربیت کا ایک اسکول بنایا ہے۔اِس حوالے سے، اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جو مدد ملے گی وہ تربیت کے زمرے میں ہوسکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کو کاؤنٹر انسرجینسی کے حوالے سے کافی تجربہ ہے، جس کا مخصوص سازو سامان ہے، اور جسے فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

XS
SM
MD
LG