رسائی کے لنکس

logo-print

بلوچستان: سرکاری عہدیداروں کو بازیاب کروانے والے خود اغوا


ضلع کیچ کے ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنر کی بازیابی کے لیے جانے والے ضلع تربت کے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں نامعلوم افراد نے تین اعلیٰ سرکاری افسران اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت 10 افراد کو اغوا کر لیا۔

ضلع تربت کی انتظامیہ کے مطابق جمعہ کو اسسٹنٹ کشمنر نعیم گچکی اپنے محافظوں اور دو تحصیلداروں کے ہمراہ گزشتہ رات اغوا ضلع کیچ کے ڈپٹی کشمنر عبدالحمید ابڑو اور اسسٹنٹ کمشنر حسین بلوچ کی بازیابی کے لیے قبائلی عمائدین سے بات چیت کے بعد واپس آرہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے انھیں بھی اغوا کر لیا۔

حکام کے مطابق یہ لوگ جب مند کے علاقے میں پہنچے تو موٹرسائیکلوں پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے انھیں زبردستی روکا اور سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر نعیم گچکی سمیت سب کو اپنے ساتھ لے گئے۔

قبل ازیں جمعرات کو رات دیر گئے ضلع کیچ کے ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنر ایرانی سرحدی حکام سے ملاقات کے بعد واپس آرہے تھے کہ تمپ کے علاقے میں انھیں نامعلوم افراد نے محافظوں سمیت اغوا کر لیا۔ تاہم کچھ دیر کے بعد انھوں نے دونوں سرکاری عہدیداروں کے علاوہ باقی افراد کو چھوڑ دیا۔

تاحال کسی فرد یا گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ تمام افسران کی بازیابی کے لیے کو ششیں تیز کردی گئی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی فورسز نے سر چ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے جبکہ علاقے کے قبائلی عمائدین سے بھی اس بارے میں رابطے کیے جارہے ہیں۔

بلوچستان میں سر کاری افسران کو اغوا کرنے کے واقعات اس سے پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ فروری 2011ء میں دو ججز کو ضلع نصیر آباد کے علاقے سے اور 18 نو مبر کو ضلع گوادر سے کسٹم کے چھ افسران کو اغوا کیا گیا تھا جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مر کزی رہنما ارباب عبدالظاہر ، جنہیں چار ماہ پہلے اغوا کیا گیا تھا تاحال بازیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں اغوا کی وارداتیں کرنے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ایک سریع الحرکت فورس تشکیل دے دی گئی ہے جس نے گزشتہ سال اغوا ہونے والے 25 میں سے 18 افراد کو بحفاظت بازیاب کروا لیا تھا۔
XS
SM
MD
LG