رسائی کے لنکس

logo-print

ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ میں پاکستانی حکام پر تنقید


مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے مندرجات شائع کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یہ فوجی اور سول قیادت کی ’’مشترکہ ناکامی‘‘ ہے کہ اسامہ سالوں تک پاکستان میں روپوش رہا۔

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں دو مئی 2011ء کو ایک خفیہ امریکی آپریشن میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اگرچہ کمیشن کی رپورٹ سرکاری طور جاری نہیں کی گئی ہے لیکن مقامی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں اس رپورٹ کے شائع ہونے والے مندرجات میں کہا گیا ہے کہ یہ فوجی اور سول قیادت کی ’’مشترکہ ناکامی‘‘ ہے کہ بن لادن سالوں تک پاکستان میں روپوش رہا۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے قائم کیے گئے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا جس نے رواں سال جنوری اپنی رپورٹ اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پیش کر دی تھی۔

حکومت نے تاحال یہ رپورٹ جاری نہیں کی تاہم ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی 336 صحفات کی اس رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں ’’اعلیٰ ترین سطح سے لے کر نچلے درجے تک حکومت کی غفلت رہی‘‘ کہ نو سال تک بن لادن کے پاکستان میں رہتے رہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ موجودہ یا سابقہ پاکستانی حکام نے بن لادن کو چھپنے میں مدد دی، تاہم اس امکان کو پوری طرح رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔

بن لادن کی آخری پناہ گاہ ایبٹ آباد میں پاکستانی فوج کی مرکزی تربیت ’کاکول اکیڈمی‘ سے کچھ ہی فاصلے پر بلال ٹاؤن میں واقع تھی اور اس وجہ سے یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکام نے القاعدہ کے رہنما کی معاونت کی۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ اس شک کو صحیح ثابت کرنے کے شواہد حاصل نہیں ہو سکے۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن کی روز مرہ زندگی کے بارے میں تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں جس کے مطابق بن لادن اپنی نگرانی کے متعلق اتنا چوکنا تھا کہ وہ گھر کے کھلے احاطے میں گھومتے وقت ایک ’کاؤ بوائے ہیٹ‘ پہنے رکھا تاکہ وہ فضا سے کی جانے والی نگرانی سے بچ سکے۔


بن لادن کے ایک قریبی معاون کی بیوہ نے کمیشن کو بتایا ایک مرتبہ اسامہ اور اس کے خاوند کو سوات کے علاقے میں پولیس نے تیز رفتار ڈرائیونگ کے باعث روکا تھا۔ لیکن اس خاتون کے بقول اس سے قبل کہ پولیس والے بن لادن کو پہچانتے اس کے شوہر نے جلدی جلدی معاملہ نمٹا لیا۔

پاکستانی حکام برس ہا برس تک یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ دنیا کے مطلوب ترین اس مفرور کی آماجگاہ اور اس کے زندہ ہونے کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام کو خفیہ امریکی آپریشن سے لاعلم رکھا گیا جس میں بن لادن مارا گیا تھا۔

کمیشن نے رپورٹ کے تیاری میں دو سو گواہان بشمول سینئیر سویلین اور فوجی عہدیداروں کے بیانات قلمبند کیے ہیں جب کہ ایبٹ آباد کے بلال ٹاؤن سے تحویل میں لی گئی بن لادن کی تین بیواؤں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

ایبٹ آباد کمیشن کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے منگل کو پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینلز سے گفتگو میں کہا کہ وہ رپورٹ کے بارے میں کچھ بتانے سے قاصر ہیں کیوں کہ قانوناً صرف حکومت ہی ایسا کرنے کی مجاذ ہے۔

تاہم اُن کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں لگ بھگ 100 سفارشات حکومت کو پیش کی گئی ہیں جب کہ اداروں کی غفلت کا تعین بھی کیا گیا ہے لیکن اُنھوں نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں واقع اس گھر کا دورہ بھی کیا تھا جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھا۔

کمیشن کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ اپنی رپورٹ میں غفلت کے مرتکب ہونے والے اداروں اور عہدیداروں کی نشاندہی کرنے کے علاوہ اپنی سفارشات بھی حکومت کو پیش کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نا ہو سکیں۔
XS
SM
MD
LG