رسائی کے لنکس

logo-print

رمشا مسیح کے خلاف چالان عدالت میں پیش


رمشا کو ضمانت کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا

مقدمے کی سماعت کرنے والے سول جج کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے ہفتہ کو مقدمے کی سماعت نہ ہو سکی۔

پولیس نے توہین مذہب مقدمے میں رمشا مسیح کے خلاف عبوری چالان سیشن عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے سول جج کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے ہفتہ کو مقدمے کی سماعت نہ ہو سکی۔

پولیس نے چالان سیشن جج جواد عباس کی عدالت میں پیش کیا تاہم ڈسٹرکٹ اٹارنی (سرکاری وکیل) نے اس چالان پر کئی اعتراضات اٹھائے اور بعد ازاں اپنا اختلافی نوٹ تحریر کر کے اس پر دستخط کر دیئے۔


رمشاء مسیح کے وکیل طاہر نوید چوہدری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چالان کی کاپی ابھی انھیں نہیں ملی ہے اس لیے وہ پولیس کی رپورٹ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔


اس سے قبل سات ستمبر کو اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے رمشا کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر اس عیسائی لڑکی کو راولپنڈی کے اڈیالہ جیل سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اسلام آباد کے نواح میں واقع بستی مہرا جعفر سے پولیس نے 16 اگست کو رمشا مسیح کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب مقامی مسلمان آبادی نے اس لڑکی پر قرآنی آیات پر مبنی اوراق کو مبینہ طور پر نذر آتش کرنے کے خلاف اس کے گھر کو گھیر رکھا تھا۔

اب تک ہونے والی سماعت میں سرکاری طبی رپورٹ کے مطابق اس مسیحی لڑکی کی ذہنی صلاحیت اس کی جسمانی عمر سے مطابقت نہیں رکھتی اور وہ ’ڈاؤن سنڈروم‘ نامی ذہنی بیماری کا شکار ہے۔

مہرا جعفر کے ایک پیش امام خالد جدون مسجد کے موذن کے اس بیان کے بعد کہ خالد نے جلی ہوئی چیزوں میں قرآنی اوراق بعد میں شامل کیے تھے، پولیس کی حراست میں ہے۔
XS
SM
MD
LG