رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اور وزیراعظم عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کے پابند


سپریم کے پانچ رکنی بینچ نے اعلٰی عدلیہ میں ججوں کی تقرری سے متعلق صدارتی ریفررنس پر جمعرات کو اس پر اپنی رائے دی جو کہ 102 صفحات پر مشتمل ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اعلٰی عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ آئین میں اٹھارویں اور انیسویں ترامیم کی منظوری کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری میں صدر اور وزیر اعظم کا کوئی کردار باقی نہیں رہا ہے۔

سپریم کے پانچ رکنی بینچ نے اعلٰی عدلیہ میں ججوں کی تقرری سے متعلق صدارتی ریفررنس پر جمعرات کو اس پر اپنی رائے دی جو کہ 102 صفحات پر مشتمل ہے۔

جسٹس عارف حسین خلجی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بینچ نے کہا کہ صدر اور وزیراعظم ججوں کی تقرری سے متعلق عدالتی کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔

صدارتی ریفرنس میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر آئینی سوال اٹھائے گئے تھے۔

جوڈیشل کمیشن نے جسٹس انور کاسی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیا چیف جسٹس مقرر کرنے کے علاوہ اس عدالت کے موجودہ چیف جسٹس اقبال حمید الرحمٰن کو سپریم کورٹ کا جج بنانے اور ایک جج کو مستقل کرنے جب کہ ایک کی مدت ملازمت میں توسیع کی سفارشات کی تھیں۔

ججوں کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے بھی ان سفارشات کو کثرت رائے سے منظور کر لیا تھا لیکن صدر زرداری کی طرف سے ان تقرریوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے جاننے کے لیے ایک ریفرنس دائر کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG