رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ از خود نوٹس لینے سے اجتناب کرے، بار کونسل


از خود نوٹس سے متعلق عدالت عظمیٰ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ وکلاء برادری کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے

پاکستان میں وکلاء کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ’پاکستان بار کونسل‘ نے سپریم کورٹ کی جانب سے ’’ بے دریغ انداز‘‘ میں از خود نوٹس لینے یا توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس رجحان کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پی بی سی کے وائس چیئرمین سید قلب حسن نے جمعرات کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لاہور میں ہونے والے کونسل کے اجلاس میں یہ محسوس کیا گیا کہ از خود نوٹس یا توہین عدالت سے متعلق عوام میں عمومی طور پر تشویش پائی جاتی ہے جس سے ان کے مطابق عدالت عظمیٰ کے متنازع بننے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

’’اخبار کے تراشے، یا درخواست پر از خود نوٹس لیا جاتا ہے تو اس میں عدالت کے لیے تمام ضروری معلومات نہیں ہوتیں پھر ان معاملات میں زیادہ یہ ہوتا ہے جن کے بارے میں عوام میں ایک رائے بنی ہوتی ہے تو پھر فیصلے بھی اسی طرح آتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے حقوق سلب ہو جاتے ہیں۔‘‘

از خود نوٹس سے متعلق عدالت عظمیٰ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ وکلاء برادری کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اور حال ہی میں اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ہونے والی بین الاقوامی جوڈیشل کانفرنس کے اعلامیہ میں بھی اس بارے میں واضح معیار طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

قلب حسن نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر شروع کیے گئے مقدمات کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ہونا چاہیے۔

پاکستان بار کونسل کی جانب سےسپریم کورٹ کی کارروائی سے متعلق تحفظات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب حال ہی میں عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بیان پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا۔ عمران خان پر الزام ہے کہ انہوں نے انتخابات میں عدلیہ کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر یٰسین آزاد کہتے ہیں کہ آئین ہر شخص کو عدالت کے فیصلوں پر ان کے بقول تعمیری تنقید کرنے کا حق دیتا ہے اس لیے توہین عدالت کی کارروائیوں سے متعلق احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

’’برطانیہ میں لوگوں نے عدالتی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ گدھے ہیں‘ مگر عدالت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ آپ دیکھیے یہ زیادہ چیزیں پاکستان میں ہورہی ہیں۔ بھارت، برطانیہ یا امریکہ کہیں بھی ایسا نہیں ہورہا۔ اگر ان معاملات کو نظر انداز کیا جائے تو جج صاحبان کی عزت میں اضافہ ہوگا، کمی نہیں ہوگی۔‘‘

افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ پیپلز پارٹی کے سابق وزراء اعظم اور حکومت میں شامل عہدیداروں سمیت کئی اعلیٰ سرکاری حکام کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر چکی ہے جبکہ از خود نوٹس کے ذریعے نا صرف بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے احکامات کو واپس کروایا بلکہ منصوبے بھی منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG