رسائی کے لنکس

logo-print

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے کہا کہ جب یہ کیمپ شروع ہوا تو کھلاڑیوں کا فٹنس لیول 20 فیصد تھا جو کہ اب بڑھ کر 50 فیصد ہو گیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام قومی کھلاڑیوں کا ایک ماہ سے جاری فزیکل اینڈ فٹنس تربیتی کیمپ جمعرات کو اختتام پذیر ہو گیا۔

باؤلنگ کوچ محمد اکرم کی زیر نگرانی اس کیمپ میں 40 کھلاڑیوں کو مدعو کیا گیا تھا جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔

20 کھلاڑی قذافی اسٹیڈیم اور 20 کھلاڑی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے مستقبل میں فٹنس کے حوالے سے ایک شیڈول ترتیب دے دیا ہے جس کے تحت کھلاڑی کیمپ نہ لگنے کی صورت میں اپنی فٹنس پر توجہ دے سکیں گے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے بھی اس کیمپ میں کھلاڑیوں کو ماہرانہ مشورے دیے اور باؤلنگ سے متعلق ان کی رہنمائی کی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ فاسٹ باؤلر محمد عرفان کو ٹیسٹ میچ سے دور رکھنا چاہیئے اور ان کو ٹی ٹوئنٹی اور بین الاقوامی ایک روزہ میچ میں زیادہ اہمیت دینی چاہیئے۔

انھوں نے کہا کہ جب یہ کیمپ شروع ہوا تو کھلاڑیوں کا فٹنس لیول 20 فیصد تھا جو کہ اب بڑھ کر 50 فیصد ہو گیا ہے اور کوشش ہے کہ اس لیول کو 80 فیصد تک لے کر جایا جائے جو کہ اول درجے کی فٹنس کہلاتی ہے۔

سرفراز نواز نے سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کھلاڑیوں کو معیار سے بہتر فٹنس کے لیے انعامات بھی دیے جائیں گے اور معیار پر پورا نہ اترنے پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

ایک روز قبل ہی کپتان مصباح الحق نے بھی کرکٹ بورڈ کی طرف سے ’فٹنس‘ کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دینے کے مجوزہ منصوبے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔
XS
SM
MD
LG