رسائی کے لنکس

logo-print

ڈی۔8 کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے نگرانی ضروری: پاکستان


سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علاقائی تنظیموں کی افادیت صرف فیصلوں اور قراردادوں پر موثر اور بروقت عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔

براعظم ایشیاء اور افریقہ کے آٹھ ترقی پذیر اسلامی ملکوں کی تنظیم ’’ڈی ایٹ‘‘ کے وزراء کی کونسل کا 16 واں اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں ہوا جس کا مقصد پاکستانی عہدیداروں کے مطابق رکن ممالک کے درمیان تجارت میں غیر معمولی اضافے کے اقدامات پر غور کرتے ہوئے موثر فیصلے کرنا تھا۔

1997ء میں بنائی گئی اس تنظیم میں پاکستان کے علاوہ ایران، ترکی، انڈونیشیا، مصر، ملائیشیا، بنگلہ دیش اور نائیجیریا شامل ہیں۔ دفتر خارجہ میں ہونے والے کونسل کے اجلاس میں ایران اور ترکی کے وزارئے خارجہ سمیت انڈونیشیا کے نائب وزیر خارجہ اور دیگر رکن ملکوں کے اعلیٰ عہیداروں نے شرکت کی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء پر زور دیا کہ ایک معینہ مدت کے دوران تنظیم کے فیصلوں پر پیش رفت کو ممکن بنانے کے لیے نگرانی کا ایک طریقہ کار ترتیب دیں جبکہ مشکلات کے باوجود ترجیحی تجارت کے معاہدے پر بھی پیشرفت ہونی چاہیے۔

سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علاقائی تنظیموں کی افادیت صرف فیصلوں اور قراردادوں پر موثر اور بروقت عمل درآمد سے ہی ممکن ہے۔

’’صرف سربراہان کا اجلاس یا کانفرنس کروا دینا کافی نہیں۔ اس کا فالواپ بھی ہوتا ہے۔ یورپی یونین نے ہر چیز کو ایک طریقہ کار کے تحت لے آیا ہے۔ وہاں فیصلے ہوتے ہیں تو پھر کمیٹیاں اس پر کام کرتی ہیں۔ پارلیمنٹ انہیں جوابدہ بناتی ہیں۔ مگر یہاں کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ آپ فیصلے کر دیتے ہیں۔ بہت اچھی نشست اور ٹور ہوجاتے ہیں۔ مگرعمل درآمد کچھ نہیں۔‘‘

تنظیم میں شامل ملکوں کے درمیان تجارت کا مجموعی حجم 150 ارب ڈالر ہے جبکہ انہوں نے آئندہ چار برسوں میں اسے 500 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھا ہے۔

پاکستان تنظیم کے رکن ممالک سے تعاون بڑھانے کی غرض سے تجارت، ویزہ کو آسان بنانے اور محصولات سے متعلق تمام معاہدوں کی توثیق کر چکا ہے اور سرکاری عہدیداروں کے مطابق تجارت کے مزید فروغ کے لیے ڈیوٹی میں کمی کا عمل بھی شروع کرنے کا خواہاں ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ توانائی، زراعت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تنظیم کے رکن ممالک کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہئے۔


وزارء کی یہ نشست ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب پاکستان اقتصادی اور توانائی کے اعتبار سے شدید مشکلات کا شکار ہے اور نواز شریف حکومت میں شامل عہدیداروں کے بقول انتظامیہ کی بھر پور توجہ ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے پر مرکوز ہے۔

پاکستان نے رواں سال دیوالیہ ہونے سے بچنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے 6.7 ارب ڈالر کے قرضے کا معاہدے کیا ہے جس کے تحت حکومت کو معیشت اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات سے متعلق سیاسی طور پر ’’غیر معروف اور سخت‘‘ فیصلے کرنا ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG