رسائی کے لنکس

logo-print

ملک دشمنوں کے خلاف قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے: وزیراعظم


چھ ستمبر کو پاکستان میں یوم دفاع منایا جا رہا ہے جس میں جنگ ستمبر میں فوج کی کارناموں اور قوم کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا

پاکستان میں جمعہ کو یوم دفاع منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر صدر اور وزیراعظم نے اپنے اپنے پیغامات میں ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کے پیش نظر جنگ ستمبر کے جوش اور جذبے کو بیدار کرنے پر زور دیا ہے۔

چھ ستمبر 1965 کو برصغیر کے دو ہمسایہ ملکوں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہوئی جو 17 روز تک جاری رہی۔

صدر آصف علی زرداری نے یوم دفاع کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ایک اہم سبق دیتا ہے کہ کوئی جارحیت اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک عوام متحد اور افواج ملکی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تیار ہوں۔

وزیراعظم نواز شریف نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ یوم دفاع جذبہ حب الوطنی کو مزید تقویت دینے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ملک کو دہشت گردی و انتہا پسندی اور بیرونی جارحیت کی صورت میں کئی مسائل درپیش ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے خلاف دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم مسلح افواج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

ملک بھر میں اس روز جنگ ستمبر میں پاکستانی فوج کے کارناموں اور قوم کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں اس مناسبت سے ایک تقریب میں افواج پاکستان کی طرف سے ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’ پاک افواج کی طرف سے قوم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے اپنے شعبے اپنی اپنی حیثیت اور اپنے اپنے کام میں ملک کے دفاع و ترقی میں حصہ لیا اور لیتے رہیں گے۔ ہم بحیثیت قوم پاکستان کا دفاع کریں گے۔‘‘

پاکستان اور بھارت دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتیں اور ان کے درمیان مختلف تنازعات بشمول مسئلہ کشمیر کی وجہ سے اکثر حالات اب بھی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے انسداد دہشت گردی کی جنگ میں شریک ہونے کے بعد سے پاکستان میں اب تک سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت چالیس ہزار کے لگ بھگ افراد ہلاک اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔

ملک کے انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے خصوصاً شمال مغربی حصے میں سلامتی کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔
XS
SM
MD
LG