رسائی کے لنکس

دوتہائی امریکی فوجی ماہرین کی پاکستان سے وطن واپسی


دو مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی خفیہ امریکی آپریشن میں ہلاکت کے بعد بظاہر کشیدگی کا شکار ہیں اور پاکستانی عسکری قیادت نے امریکی فوجی ماہرین کی تعداد میں کمی کا فیصلہ بھی اسی دوطرفہ تناؤ کے تناظر میں کیا تھا جس پر اب عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوجی حکام کے مطابق فرنٹیئر کور کے نیم فوجی اہلکاروں کو انسداد دہشت گردی کی تربیت دینے کے لیے ملک میں لگ بھگ 135 امریکی فوجی ماہرین موجود تھے جن میں سے اب نوے واپس اپنے وطن جا چکے ہیں۔

پاکستانی فوج کی قیادت نے امریکہ پر واضح کیا تھا کہ وہ ملک میں اپنے فوجی ماہرین کی تعداد کو کم سے کم سطح پر رکھے اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ضروریات کا ازسر نو جائزہ لینے کے بعد 90 امریکی فوجیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق بعض دیگر امریکی عہدے داروں کو بھی پاکستان سے جانے کا کہا گیا ہے تاہم اس بارے میں پاکستانی حکام نے کوئی تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے۔

ایک امریکی عہدے دار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں وطن واپس جانے والے امریکی فوجی ماہرین کی تعداد کی تصدیق کی ہے۔

امریکی فوجی ماہرین کو ملک سے واپس بھیجنے کے فیصلے پر مبصرین کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض ناقدین کے خیال میں یہ پیش رفت امریکہ اور پاکستان کے کشیدہ تعلقات کے لیے تازہ جھٹکا ہے جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر امریکی حکومت کا عملدر آمد کرنے کا فیصلہ دونوں ملکوں کے فوجی تعلقات میں تناؤ کو کم کرے گا۔

بقول ایک پاکستانی فوجی عہدے دار کے صرف ایسے تکنیکی شعبوں سے امریکی ماہرین کو واپس نہیں بھیجا گیا ہے جہاں ان کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور جن میں پاکستان کے پاس اپنے ماہرین کا فقدان ہے۔

ریمنڈ ڈیوس
ریمنڈ ڈیوس

ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن سے پہلے ہی دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا شکار تھے اور اس کی وجہ امریکی سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے نجی کانٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس تھا جس نے لاہور میں دو پاکستانیوں کو قتل کردیا۔ تاہم بعد میں عدالت کے ذریعے ایک دیت کے متنازعہ معاہدے کے تحت رہائی پانے کے بعد ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ واپس بھیج دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG