رسائی کے لنکس

logo-print

علاقائی زبانوں میں پرائمری تعلیم کو فروغ دینے کا مجوزہ منصوبہ


علاقائی زبانوں میں پرائمری تعلیم کو فروغ دینے کا مجوزہ منصوبہ

منصوبے سے منسلک ماہرین کے مطابق حکمت عملی جلد وفاقی حکومت کو پیش کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ اگر اسکولوں میں داخل ہونے کے بعد شروع کے کم از کم تین سال بچے کو مقامی زبان اور بعد ازاں اردو اور انگریزی میں تعلیم دی جائے تو اس کا نہ صرف پڑھائی میں رجحان برقرار رہے گا بلکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بہتر طور پر پنپنے کا موقع ملے گا۔

برٹش کونسل ، سوات میں ادارہ برائے تعیلم و ترقی اور صوبائی محکمہ تعلیم کے نمائندوں پر مشتمل گروپ باہمی مشاورت سے ایک مربوط حکمت علمی تیار کر رہا ہے جس کا مقصد پرائمری کی سطح پر مقامی زبان میں درس وتدریس کو فروغ دینا ہے تاکہ تعلیم کوبچوں کے لیے دلچسپ اور زیادہ قابل فہم بنایا جاسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے بچوں کے سکول چھوڑنے کی شرح کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

منصوبے سے منسلک ماہرین کے مطابق حکمت عملی جلد وفاقی حکومت کو پیش کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے گی کہ اگر اسکولوں میں داخل ہونے کے بعد شروع کے کم از کم تین سال بچے کو مقامی زبان اور بعد ازاں اردو اور انگریزی میں تعلیم دی جائے تو اس کا نہ صرف پڑھائی میں رجحان برقرار رہے گا بلکہ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بہتر طور پر پنپنے کا موقع ملے گا۔

برٹش کونسل کے مشیر ٹونی کیپسٹک
برٹش کونسل کے مشیر ٹونی کیپسٹک

وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں برٹش کونسل کے مشیر ٹونی کیپسٹک نے کہا کہ چار یا پانچ سال کی عمر میں جب بچوں کو انگریزی یا اردو میں تعلیم دی جانے لگتی ہے تو اُن کی اکثریت ان زبانوں سے نا آشنا ہوتی ہے اور نتیجہَََ بچے نصاب کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور پڑھائی ہی ترک کر دیتے ہیں۔

برٹش کونسل ہی کی ایک اور عہدیدار عائشہ نعمان نے کہا کہ کسی بھی بچے کے لیے تعلیم میں سب سے بنیادی حیثیت اس زبان کی ہے جس کے ذریعے ابلاغ کیا جا رہا ہو اور اگر وہ اس زبان کو ہی سمجھنے سے قاصر ہو تو علم کا حصول کبھی بھی آسان نہیں ہو گا۔

منصوبے سے جڑی غیر سرکاری تنظیم ’’فارم برائے لینگوج انیشیٹوز‘‘ کے ایک مشیر محمّد زمان کا کہنا تھا کہ سوات میں بیس فیصد بچوں نے تعلیم صرف اس لیے ترک کی کیوں کہ وہ اردو یا پھر انگریزی میں نصاب نہیں سمجھ سکتے تھے۔

جب کہ سوات ہی میں کام کرنے والی ایک دوسری غیر سرکاری تنظیم ادارہ برائے تعلیم و ترقی کے سربراہ زبیر تنولی نے بتایا کہ سوات میں تجرباتی طور پر ایک اسکول کے اندر مادری زبان میں نصاب متعارف کرانے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ طالب علموں کی تعداد میں دو سو فیصد اضافہ ہو گیا۔

پاکستان میں قومی زبان اردو اور دفتری زبان انگریزی کے علاوہ ستر کے لگ بھگ مادری زبانیں بولی جاتی ہیں اور ایک حالیہ جائزے کے مطابق فروغ اور ترویج نہ ہونے کی وجہ سے تقریبا پینتیس فیصد کی بقا کو خطرہ ہے۔

XS
SM
MD
LG