رسائی کے لنکس

logo-print

بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے: خیبر پختونخواہ حکومت


خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیر سراج الحق نے نواز شریف حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے صوبے میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ دیتے ہوئے سرمایہ کاری کی جائے۔

خیبر پختونخواہ کے سینئر وزیر سراج الحق نے نواز شریف حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے صوبے میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر توجہ دیتے ہوئے سرمایہ کاری کی جائے۔

پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مجوزہ منصوبے ناصرف کم عرصے میں مکمل ہوں گے بلکہ ان سے حاصل ہونے والی بجلی سے ملکی ضروریات بھی مکمل ہو سکتی ہیں۔

’’ہمارے پاس مقامات ہیں، پانی ہے، ہم کہتے ہیں کہ مرکز متنازع کالا باغ اور بھاشا کی بجائے ان پر توجہ دے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تین سال میں بجلی کی کمی ختم ہو جائے گی۔‘‘

موجودہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ماہ ہی بجلی بنانے والی نجی کمپنیوں کو زیر گردش قرضوں کی مد میں 322 ارب روپے ادا کیے اور حکام کی طرف سے کہا گیا کہ اس سے ملک میں بجلی کی ترسیل میں بہتری آئے گی۔

مگر گزشتہ چند روز سے ملک کے مختلف شہروں میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج دیکھنے میں آئے۔

خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی اس کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے ہوئے ان مظاہروں کو روکنے سے انکار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سراج الحق کہتے ہیں کہ یہ بظاہر خیبر پختونخواہ کی حکومت کو عوام میں غیر مقبول بنانے کی کوشش ہے۔

’’پنجاب میں جیسے گندم وہ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد دوسروں کو دیتے ہیں اسی طرح اگر ہم بجلی بناتے ہیں تو ہمیں بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیئے۔‘‘

تاہم وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو فیصل آباد میں کاروباری شخصیات اور صنعتکاروں سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر اس عزم کو دہرایا کہ ان کی حکومت بجلی کا بحران ختم کرنے میں سنجیدہ ہے اور اس کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔



ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں بدعنوانی، نا اہلی اور کمزور ترسیل کے نظام کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ترقی کے منصوبوں کی بجائے حکومت کی توجہ توانائی کی کمی کو دور کرنے پر لگی ہوئی ہے۔

’’غریب آدمی تک گیس نہیں پہنچتی۔ اس کا گھر یا صنعت گیس سے محروم ہے اور یہ 27 کروڑ روپے کی سالانہ چوری کرتے ہیں۔ ایسے بے شمار مجرم یہاں موجود ہیں اور ان مجرموں سے معاشرے کو پاک کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ‘‘

وزیراعظم نے بجلی کی لوڈشیدنگ کے دور نا کرنے سے متعلق اپنی کی حکومت پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ یاد رکھیں ہمیں آئے ہوئے ایک ماہ اور کچھ دن ہوئے ہیں اور کوئی ٹائم فریم دینا ممکن نہیں مگر لوگ دیکھ رہے ہونگے کہ ہماری سمت صحیح ہے۔‘‘

ادھر نواز شریف نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پہلے نجی پن بجلی گھر کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ حب پاور کمینی کا 84 میگا واٹ کا یہ منصوبہ معاہدے کے تحت 25 سال تک حکومت کو ’’سستی‘‘ بجلی فراہم کرے گا۔

حکومت میں شامل عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ ماضی کی حکومتوں کے برعکس، نئی مجوزہ پالیسی کے تحت صرف ان منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جن سے سستے داموں بجلی حاصل ہو سکے۔

وزیراعظم نے گزشتہ ماہ نئی توانائی کی پالیسی کا اعلان کرنا تھا مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر اسے موخر کردیا گیا۔
XS
SM
MD
LG