رسائی کے لنکس

logo-print

قبائلی علاقوں میں انتخابی اصلاحات کا عمل نامکمل: سیاسی رہنما


قبائلی علاقوں میں انتخابی مہم کے دوران مختلف نوعیت کے اجلاس اور جلسوں کے لیے مقامی انتظامیہ کو آگاہ یا ان سے اجازت حاصل کرنے کی شرط کو ختم کرنے اور سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کرنے کے مطالبات کیے گئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی طرف ان کے علاقوں میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں سے متعلق قوانین کا نفاذ صیحح طور پر نہیں کیا جارہا جس کی وجہ سے آئندہ ہونے والے انتخابات کے لیے ان کی تیاریوں اور مہم میں شدید خلل پڑ رہا ہے۔

یہ بات امریکہ کی ایک غیر سرکاری تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام پاکستان کی 11 بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے دو روزہ مشاورتی اجلاس کے بعد جمعرات کو جاری کردہ 40 نکاتی تجاویز کے ایک مسودے میں کہی گئی۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ان نمائندوں نے بتایا کہ ان نکات پر کمیٹی میں مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

سفارشات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں انتخابی مہم کے دوران مختلف نوعیت کے اجلاس اور جلسوں کے لیے مقامی انتظامیہ کو آگاہ یا ان سے اجازت حاصل کرنے کی شرط کو ختم کیا جائے اور سیاسی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما پروفیسر محمد ابراہیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو مقامی انتظامیہ، فوج اور شدت پسندوں کی طرف سے دشواریوں کا سامنا ہے۔

’’بدامنی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں یعنی جنگ میں جس قسم کے حالات ہوتے ہیں وہ حالات ہیں اور پھر بعض علاقوں میں خفیہ اداروں اور بعض میں ان سے لڑنے والے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔‘‘

قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیات کا کہنا تھا کہ ان کے علاقوں میں جمہوریت اور دیگر اصلاحات کو تمام سیاسی جماعتیں اپنے قومی منشور کا حصہ بنائیں۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ قبائلی خواتین کے لیے بھی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کا اعلان کیا جائے۔ الیکشن کمیشن سے قبائلی علاقوں میں انتخابات میں پیسے کے ’’بے دریغ‘‘ استعمال پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے حکمران اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئیر نائب صدر اجمل خان وزیر نے الیکشن کمیشن کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کمیٹی کی طرف سے تین ماہ قبل ووٹروں کے اندراج، قبائلی علاقوں میں عدلیہ کے زیر نگرانی انتخابات کرانے اور ملک کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے قبائلیوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی سہولتیں بھی فراہم کرنے سے متعلق سفارشات پیش کرنے کے باجود ان پر کوئی خاطر خواہ عمل در آمد نہیں ہوا۔

’’انہوں نے ہمیں بلانے کی بھی زحمت نہیں کی اور اگر الیکشن ایسے ہی ہوگئے تو پھر دولت کے بل بوتے پر لوگ آئیں گے اور قبائلیوں کی بات کوئی نہیں کرے گا جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔‘‘

قبائلی علاقوں سے متعلق غیر سرکاری تحقیقاتی ادارے فاٹا ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشرف علی کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں انتخابات کا انعقاد شدت پسندی اور انتہا پسندی کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے اور ان کے مطابق شدت پسندی کو ترک کرکے کئی قبائلی اب سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کررہے ہیں۔

’’اب قبائلیوں میں سیاسی بیداری آئی ہے۔ اب وہ مطالبہ کرنے لگے ہیں۔ اب وہ سوچتے ہیں کہ اسلام آباد میں اگر کوئی شخص اچھی زندگی گزار سکتا ہے تو وہ کیوں نہیں۔‘‘

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں جماعتی بنیاد پر انتخابات ہونے جارہے ہیں تاہم بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ انتظامی طور پر وہاں کے مخصوص اسٹیٹس کو ختم کرکے بھی قبائلیوں کو بہتر انداز سے قومی دھارے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG