رسائی کے لنکس

logo-print

جاوید فاضل کے انتقال پر فلمی صنعت اور پروڈکشن کے لوگ سوگوار


جاوید فاضل کے انتقال پر فلمی صنعت اور پروڈکشن کے لوگ سوگوار

فلم اور ٹی وی کے معروف ہدایتکار جاوید فاضل بدھ کے روز کراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ 60ء کی دہائی میں اپنے فنی سفر کا آغازہدایتکار قدیر غوری کے نائب کے طور پر کیااور بعد ازاں خود انھوں نے چالیس کے قریب فلموں کی ہدایتکاری کی۔

ان فلموں میں بلندی،لازوال،قربانی، صائمہ اور دہلیز جیسی کامیاب فلمیں شامل تھیں۔ فلم بلندی میں انھوں نے پاکستانی فلمی صنعت کے معروف فنکاروں ریما اور شان کو متعارف کروایا تھا۔

فلمی صنعت کے جانے مانے ہدایتکار اسلم ڈار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جاوید فاضل بہت محنتی اور ذہین ڈائریکٹر تھے۔”ان کا اپنا انداز تھاجو ان کی سب فلموں میں نمایاں تھا اور ہر کوئی یہ محسوس کرتا تھا کہ ہدایتکار نے اپنی تخلیقی صلاحیت کو پردہ سکرین پر منتقل کردیا ہے“۔

ہدایتکارہ سنگیتاکا کہنا تھا کہ فلمی صنعت اور ٹی وی پروڈکشن کے لوگ جاوید فاضل کی موت پر غمزدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے فنی سفر کی ابتدا میں انھوں نے جاوید فاضل کے ساتھ چند فلموں میں کام کیااور ان کی خاص بات یہ تھی کہ وہ منظر فلماتے ہوئے حقیقت کے بہت قریب رہتے تھے۔ سنگیتا کے بقول یہی خوب جاوید فاضل کی ٹی وی انڈسٹری میں کامیابی کا سبب بنی۔

اسلم ڈار کا کہنا تھا کہ نوے کی دہائی میں جب پاکستانی فلمی صنعت زوال کا شکار ہوئی تو مجبوری میں جاوید فاضل کو بڑی سکرین چھوڑ کر چھوٹی سکرین کا رخ کرنا پڑا اور اسی وجہ سے وہ لاہور سے کراچی منتقل ہوگئے تھے ۔

سنگیتا نے کراچی میں ٹی وی پروڈکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جاوید فاضل کو ایک ایسا منفرد ہدایتکار قرار دیا جس نے فلم میں بھی اپنا آپ منوایا اور پھر چھوٹی سکرین پربھی۔انھوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری تو پہلے ہی ان کی کمی پہلے محسوس کررہی تھی اب ٹی وی پروڈکشن کی صنعت بھی یقینا جاوید فاضل کی کمی محسوس کرے گی۔

جاوید فاضل کی عمر 62برس تھی۔ وہ معروف فلمی ہدایتکارہ شمیم آرا کے برادر نسبتی تھے۔ جاوید فاضل کی تدفین لاہور میں ہوگی۔

XS
SM
MD
LG