رسائی کے لنکس

logo-print

متاثرین سیلاب کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے سیلاب آیا اسے مدنظر رکھتے ہوئے جس تندہی سے تمام متعلقہ اداروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا وہ اپنی جگہ ایک قابل تحسین امر ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی مکمل بحالی نہیں ہو جاتی وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

گزشتہ ماہ پنجاب کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔ اس میں 367 افراد ہلاک جب کہ لاکھوں لوگ متاثر اور لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

ہفتہ کو ضلع جھنگ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انھیں متاثرین کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے اور ان کی مکمل بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

"یہ ہماری ذمہ داری اور ہمارا فرض ہے، ہم نے اپنا فرض ادا کیا ہے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا۔ اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک آپ اپنے گھروں کو دوبارہ بنا نہیں لیں گے، جب تک آپ اپنے گھروں میں سکھ اور چین کی زندگی نہیں گزاریں گے۔"

صوبائی حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کا کام شروع کر رکھا ہے جب کہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی رقوم کی پہلی قسط کے مبلغ 25 ہزار روپے گزشتہ ہفتے ادا کر دیے گئے تھے۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ جس تیزی سے سیلاب آیا اسے مدنظر رکھتے ہوئے جس تندہی سے تمام متعلقہ اداروں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا وہ اپنی جگہ ایک قابل تحسین امر ہے۔

حکومتی عہدیدار یہ کہہ چکے ہیں کہ سیلاب کو روکنا تو ممکن نہیں لیکن اس کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا جائزہ لے کر ان پر کام شروع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس سے بچایا جاسکے۔

پاکستان میں ہر سال مون سون کے موسم میں شدید بارشوں اور سیلاب سے قابل ذکر حد تک نقصان ہوتا ہے لیکن رواں برس پنجاب میں آنے والے سیلاب کو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تباہ کن قرار دیا جارہا ہے۔

ماہرین اور مبصرین اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ نئے آبی ذخائر بنانے کے علاوہ موجودہ ڈیموں کی گنجائش کو بہتر کرنے اور جنگلات کی بےدریغ کٹائی کو روکنے جیسے اقدامات کر کے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو خاصی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG