رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے ساتھ بامعنی مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں: عبدالباسط


پاکستانی ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ادراک ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات پیچیدہ نوعیت کے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملکوں کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں جیسے اور معمول کے تعلقات چاہتا ہے اور اس کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یہ بات بدھ کو نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ادراک ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات پیچیدہ نوعیت کے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ملکوں کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

’’پاکستان میں یہ اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات چاہتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جامع اور بامعنی مذاکرات کرتے رہیں۔‘‘

یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل ہی بھارت نے پاکستانی ہائی کمشنر کی بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کے تناظر میں آئندہ ہفتے اسلام آباد میں پاک بھارت خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات منسوخ کر دیے تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے اس بھارتی اقدام کو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے ایک دھچکہ قرار دیا تھا۔

پاکستانی ہائی کمشنر کے بقول اس کے باوجود پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات استوار کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

"کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد تمام فریقین سے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا پرامن اور قابل عمل حل تلاش کرنا تھا۔"

ان کا کہنا تھا کہ مئی میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان خاص طور پر تجارتی روابط میں بہتری دیکھی گئی ہے اور اس ضمن مزید پیش رفت بھی ہو گی۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے اس موقع پر افغانستان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک پرامن اور مستحکم افغانستان کا حامی ہے کیونکہ ایک پرامن افغانستان خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔

XS
SM
MD
LG