رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخواہ کے بزرگ قوم پرست رہنما انتقال کر گئے


فائل فوٹو

خان لالہ کا تعلق سوات کے علاقے درش خیلہ مٹہ سے تھا اور وہ واحد سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے گزشتہ دہائی میں طالبان کی طرف سے سوات میں شورش پسندی کے دوران یہاں سے منتقل ہونے سے انکار کیے رکھا۔

پاکستان میں خیبر پختونخواہ کے ایک بزرگ قوم پرست سیاسی رہنما افضل خان المعروف خان لالہ اتوار کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر نوے سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔

خان لالہ کا تعلق سوات کے علاقے درش خیلہ مٹہ سے تھا اور وہ واحد سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے گزشتہ دہائی میں طالبان کی طرف سے سوات میں شورش پسندی کے دوران یہاں سے منتقل ہونے سے انکار کیے رکھا۔

اس دوران ان پر کئی ایک حملے بھی ہوئے جن میں سے ایک میں وہ زخمی بھی ہوئے لیکن اپنا علاقہ چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئے۔

بتایا جاتا ہے کہ خان لالہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ سیدو شریف کے اسپتال میں کچھ عرصہ علاج کے بعد ان کی طبی پیچیدگیاں ختم نہ ہونے پر انھیں اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ کچھ عرصہ زیر علاج رہنے کے بعد اتوار کو انتقال کر گئے۔

وہ صوبائی اسمبلی کے علاوہ قومی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے تھے۔

خیبر پختونخواہ اور خصوصاً سوات میں لوگ خان لالہ کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

طالبان کی شورش پسندی کے خلاف دلیرانہ موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے حکومت پاکستان انھیں تمغہ شجاعت سے بھی نواز چکی ہے۔

XS
SM
MD
LG