رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: فضائی کارروائی میں 22 ’دہشت گرد‘ ہلاک


شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ایک سرحدی علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں کم از کم آٹھ مشتبہ دہشت گرد مارے گئے جب کہ سات اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جیٹ طیاروں سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں فوج کے مطابق 22 ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔

یہ کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں کی گئی، لیکن سرکاری طور پر اس بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اس سے قبل شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ایک سرحدی علاقے میں شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں کم از کم آٹھ مشتبہ دہشت گرد مارے گئے جب کہ سات اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق تحصیل مکین کے علاقے پش زیارت میں کجھوری چیک پوسٹ پر لگ بھگ 40 راکٹ داغے گئے جس کے بعد خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔

اس حملے میں سات اہلکار زخمی ہو گئے، حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

فضائی کارروائی اور کجھوری چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق مزید معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں کیوں کہ جس علاقے میں یہ واقعات پیش آئے وہاں تک میڈیا کے نمائندوں کی رسائی نہیں۔

شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج نے گزشتہ سال جون سے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ شروع کر رکھا ہے اور حکام کے مطابق بیشتر علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کرایا جا چکا ہے جب کہ کچھ دور افتادہ جگہوں میں لڑائی جاری ہے۔

رواں ماہ ہی شمالی اور جنوبی وزیرستان کی سرحد پر اطلاعات کے مطابق شدت پسند تنظیم حقانی نیٹ کا کمانڈر فاروق زردان سکیورٹی فورس کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا جب کہ اُس کے نو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے اُن علاقوں میں جہاں سے شدت پسندوں کا صفایا کیا جا چکا ہے وہاں سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG