رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر: سکیورٹی فورسز سے جھڑپ میں تین شدت پسند ہلاک


مقامی حکام کے مطابق شلوبر کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر مشتبہ شدت پسندوں نے فائرنگ کی جس سے ایف سی کے کم ازکم دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے خیبر میں سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں کم ازکم تین عسکریت پسند ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

مقامی حکام کے مطابق خیبر ایجنسی کے علاقے شلوبر میں ایک سکیورٹی چیک پوسٹ پر اہلکاروں نے ایک مشکوک گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا لیکن گاڑی میں سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے دو ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا جب کہ فائرنگ سے تین عسکریت پسند زخمی بھی ہوئے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے متعدد گروہوں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کر رکھی ہیں جو اکثر سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

علاقے میں سکیورٹی فورسز ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بھی کرتی رہتی ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک فضائی کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے متعدد ٹھکانے تباہ جب کہ متعدد عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں رواں ماہ پشاور میں ایک سینما پر بم حملے کے علاوہ فوج کی گاڑی پر حملہ کرکے ایک میجر کو ہلاک کرنے والے شدت پسند بھی شامل تھے۔

دریں اثناء پشاور کے مختلف علاقوں میں پولیس نے تلاشی کی کارروائی کے دوران 25 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس فیصل مختار نے وائس آف امریکہ کو اس کی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’’گڑھی عطا محمد، بانا ماڑی، بہادر کلے، جاویدآباد اور قمرالدین گڑھی کے علاقوں میں صبح سویرے پولیس نے کارروائی کی، گھر گھر تلاشی لی گئی جہاں سے ایک کلاشنکوف اور آٹھ پستول بھی برآمد کیے گئے۔‘‘

ادھر شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایدک نامی گاؤں کی ایک مسجد کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں قبائلی رہنما کا ایک بیٹا ہلاک اور دیگر دو افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق یہ دھما کا دیسی ساختہ بم سے کیا گیا لیکن فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کارروائی گروپ کی طرف سے کی گئی۔

قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے مختلف گروپ ایک دوسرے پر بھی ہلاکت خیز حملے کرتے رہتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG