رسائی کے لنکس

logo-print

مذہبی خیالات کی بنا پر امیدوار کو ہراساں کیے جانے کی شکایت


پچیس جولائی کے انتخابات میں پاکستان کی ایک صوبائی اسمبلی کے امیدوار اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن نے کہا ہے کہ اقلیتی احمدیہ فرقے سے متعلق اُن کے خیالات کی بنا پر اُنھیں بارہا ہراساں کیا گیا ہے۔

جبران ناصر جو پاکستان کے سب سے بڑے شہر، کراچی میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں، کہا ہے کہ ہراساں کیے جانے کے معاملے کا تقریباً دو ہفتے قبل آغاز ہوا، اور اب تک ایسے 10 واقعات سامنے آچکے ہیں۔

اُن کی انتخابی مہم چلانے والے، طٰحہ رحمٰن نے کہا ہے کہ مسئلہ اُس وقت کھڑا ہوا جب گذشتہ برس ایک ٹیلی ویژن شو میں کسی نے ناصر کے خلاف غلط الزام لگائے۔

سماجی میڈیا کے وڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ مستقل طور پر ناصر سے مذہب سے متعلق سوال کرتے ہیں آیا وہ احمدی اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایک وڈیو میں ایک شخص نے جبران ناصر سے بار بار اصرار کیا کہ وہ احمدیوں کو کافر قرار دیں۔ اُنھوں نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ خدا ہی کر سکتا ہے۔

احمدیہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ لیکن، اکثریتی مسلمان احمدیوں کے اس دعوے کو رد کرتے ہیں کہ اُن کے فرقے کے بانی، مرزا غلام احمد پیغمبر تھے۔ پاکستان کے آئین کی رو سے احمدیوں کو غیر مسلمان قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ احمدیوں کو پاکستان کی برادریوں میں سب سے زیادہ پسا ہوا طبقہ قرار دیتے ہیں۔ احمدیہ کہتے ہیں کہ اُنھوں نے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، چونکہ اُنھیں شکایت ہے کہ اُن کے خلاف امتیاز برتا جا رہا ہے۔

پاکستان میں احمدیہ برادری کے ترجمان، سلیم الدین نے کہا ہے کہ ’’حالانکہ انتخابات مشترکہ انتخابی نظام کے تحت ہو رہے ہیں۔ تاہم، احمدیوں (احمدیہ) کے لیے علیحدہ ووٹر لسٹ تیار کی گئی ہے ‘‘۔

ووٹر رجسٹریشن کاغذات میں پاکستان کے ووٹروں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنا مذہب ظاہر کریں۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، اُنھیں ایک مزید حلف نامے پر دستخط کرنے پڑتے ہیں کہ اُن کا تعلق احمدیہ برادری سے نہیں ہے۔ اس لیے، ووٹ ڈالنے کے لیے احمدیوں کو غیر مسلم کے طور پر رجسٹر کرنا پڑتا ہے۔ سلیم الدین نے کہا کہ ’’آپ کے رائے دہی کے حق کا تعلق آپ کی شہریت سے، ناکہ مذہب سے ہونا چاہیئے‘‘۔

پاکستان میں احمدیوں کی تعداد پانچ لاکھ ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے گروپوں نے پاکستان سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ امتیازی نوعیت کے قوانین کو معطل کیا جائے۔

’ہیومن رائٹس واچ‘ کے ایشیا کے سربراہ، بریڈ ایڈمز نے کہا ہے کہ ’’اگر کسی پوری برادری کو انتخابی عمل سے دور رکھا جاتا ہے، تو پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’مذہبی نااتفاقی لوگوں کو رائے دہی کے حق سے محروم کرنے کا سبب نہیں بننی چاہیئے‘‘۔

پاکستان الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا گیا، جن کے ترجمان اپنا مؤقف دینے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG