رسائی کے لنکس

logo-print

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بار پھر تلخی


پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعرات کو بھی تلخی برقرار رہی اور جب ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوا تو حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزب مخالف کی تحریک انصاف کے اراکین کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے حزب مخالف کی جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو وزیراعظم نواز شریف کے پاناما پیپرز سے متعلق ایوان میں دیئے گئے بیان پر تحریک استحقاق پیش کرنے کی منظوری نہیں دی تھی۔

اس معاملے پر ایک بار پھر حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کی گئی۔ ’پی ٹی آئی‘ کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اُن کا موقف سنے بغیر اسپیکر نے ’رولنگ‘ دی اور اُن کو تحریک استحقاق پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

شاہ محمود قریشی نے دو مطالبات پیش کیے، کہ وفاقی وزیر برائے ریلوے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کہے گئے ’غنڈہ گردی‘ کے الفاظ پر معذرت کریں اور وزیراعظم نواز شریف ایوان میں آ کر اپنے بیان کی وضاحت کریں۔

جب خواجہ سعد رفیق کو تقریر کا موقع ملا تو اُنھوں ایوان کے ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور تحریک انصاف کے اراکین کے خلاف کہے گئے الفاظ پر معذرت کی۔

تحریک انصاف نے کئی ہفتوں تک پارلیمان کے اجلاسوں کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

رواں سال اپریل میں پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے تین بچوں، حسین، حسن اور مریم نواز کا نام سامنے آنے کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف کی طرف سے حکومت مخالف احتجاج بھی کیے گئے اور اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جس کی سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہو گی۔

XS
SM
MD
LG