رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں سیاسی ماحول ایک بار پھر 'کشیدگی کی طرف گامزن'


پی ٹی آئی کہتی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو منطقی انجام تک پہنچا کر ملک میں آئندہ انتخابات میں شفافیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

پاکستان میں گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی کارروائی جاری ہے اور اس سلسلے میں پیر کو پانچ مزید گواہان کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

ان میں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے عہدیداران کے علاوہ پوسٹل فاؤنڈیشن کے عہدیدار شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان باہمی اتفاق رائے سے عدالتی کمیشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور یہ کمیشن 45 روز میں اس بات کا تعین کرے گا کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں منظم دھاندلی ہوئی یا نہیں۔

سابق کرکٹر عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف یہ الزام عائد کرتی ہے کہ مسلم لیگ ن دو سال قبل ہونے والے انتخابات میں بڑے پیمانے پر منظم دھاندلی کر کے اقتدار میں آئی۔ لیکن حکومت اسے صریحاً مسترد کرتی ہے۔

اس معاملے پر دونوں جماعتوں میں پائے جانے والے تناؤ کے باعث ملک میں گزشتہ سال شدید سیاسی کشیدگی رہی۔

عدالتی کمیشن کے قیام کے بعد یہ کشیدگی خاصی حد تک کم ہو چکی تھی لیکن گزشتہ ہفتے ہی لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125 میں تحریک انصاف کے حامد خان کی طرف سے الیکشن ٹربیونل میں دائر شکایت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر دونوں جانب سے دشنام ترازیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

اس حلقے سے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے لیکن ٹربیونل نے اس حلقے میں انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انتخاب کو کالعدم قرار دیا اور 60 روز میں یہاں دوبارہ الیکشن کروانے کا کہا۔

حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہی تھا کہ لاہور ہی سے ایک اور حلقے این اے 122 کا معاملہ بھی بظاہر حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بنتا دکھائی دینے لگا ہے۔

اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے ایاز صادق نے عمران خان کو شکست دی تھی۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ٹربیونلز کی کارروائیوں میں کہیں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ ان کے امیدواروں نے یہاں دھاندلی کی یا وہ اس میں ملوث ہوئے بلکہ ان کے بقول یہ خرابی انتخابی عملے کی نااہلی کے باعث رونما ہوئی۔

لیکن تحریک انصاف اسے اپنے الزامات کی صداقت سے تعبیر کرنے پر مُصر ہے۔

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ صورتحال ایک بار پھر سیاسی ٹکراؤ کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ اس طرح کی سیاست سے ملک کی معیشت کو درست سمت میں چلانے کی حکومتی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں جب کہ پی ٹی آئی کہتی ہے کہ وہ اپنے الزامات کو منطقی انجام تک پہنچا کر ملک میں آئندہ انتخابات میں شفافیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

XS
SM
MD
LG