رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان: بدھ کے روز پولنگ، بندوبست آخری مراحل میں


الیکشن اسٹاف کی تعیناتی

پاکستان میں بدھ کے روز عام انتخابات کے انعقاد کے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 10 کروڑ 55 لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

آخری مراحل میں، انتخابی عمل میں درکار سامان کی ترسیل کی دستیابی کو یقینی بنانے کا کام جاری ہے۔

یہ انتخابات ملکی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ہونگے، جن پر ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف وفاقی بجٹ سے 21 ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کیلئے آزاد امیدواروں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے 11 ہزار سے زائد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے بلا تعطل شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔

پاک فوج کے ساڑھے3 لاکھ اور محکمہٴ پولیس کے ساڑھے 4 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں، جبکہ 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق، ملک بھر میں عام انتخابات 2018 کے حوالے سے بر وقت ووٹنگ کے لئے پولنگ کا سامان آر اوز کو بھجوایا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 2 لاکھ 2 ہزار 239 بیلیٹ باکسز آر اوز کو بھجوا دیئے۔ قومی اسمبلی کا سبز ڈھکن والا جبکہ صوبائی اسمبلی کے لیے سفید ڈھکن والے بیلیٹ باکس بھجوائے گئے ہیں۔

ووٹرز کی رازداری اور باپردہ خواتین کے لئے 3 لاکھ 54 ہزار 430 کمپارٹمنٹ سکرینیں بھی آر اوز کو بھجوا ئی گئی ہیں، اس کے علاوہ 6 لاکھ 35 ہزار 569 نائیلون کے سٹیمپس بھی آر اوز کے حوالے کی گئی ہیں۔ 53 ہزار 86 سیلیز اور 7 لاکھ 57 ہزار 635 ٹیمپر ایویڈنٹ بیگ بھیجنے کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

25 لاکھ 50 ہزار 436 پلاسٹک سیلز، 90 ہزار اسٹیشنری پیکٹس بھی آر اوز کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ 7 لاکھ 70 ہزار 860 مارکنگ پیڈ ربڑ سٹیمپ بھی آر اوز کو پہنچانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 4 لاکھ 39 ہزار 60 انمٹ سیاہی کی وائلز بھی بھجوا دی گئی ہیں۔

قومی اسمبلی کی 272 میں سے 270 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، ملک بھر میں 85 ہزار 252 پولنگ اسٹیشن جبکہ 2 لاکھ 41 ہزار 132 پولنگ بوتھ قائم کئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 افراد حق رائے دہی استعمال کرینگے، جن میں مرد ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 92 لاکھ 24 ہزار 263 اور خواتین ووٹرزکی تعداد 4 کروڑ 67 لاکھ 31 ہزار 146ہے۔

عام انتخابات کیلئے پنجاب کی 141، سندھ کی 61، خیبرپختونخوا کی 39، بلوچستان کی 16، فاٹا کی 11 اور اسلام آباد کی 3 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مجموعی طور پر 8 حلقوں کے انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق صوبائی اسمبلیوں کے چھ اور قومی اسمبلی کے دو حلقوں میں انتخابات ملتوی کیے گئے۔ ملتوی ہونے والے 7 حلقوں میں امیدواروں کی وفات، جب کہ ایک حلقہ میں امیدوار کی نااہلی کی وجہ سے ملتوی کیا گیا۔

پی کے 78 پشاور، پی پی 87 میانوالی، پی پی 103 فیصل آباد، پی ایس 87 ملیر، پی کے 99 ڈی آئی خان، پی بی 35 مستونگ، این اے 103 فیصل آباد اور این اے 60 راولپنڈی میں بھی الیکشن ملتوی ہوا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ انتخابات کی ڈیوٹی کے لئے فوجی جوانوں کی تعیناتی مکمل کرلی گئی ہے، جس کا مقصد شفاف انتخابات کے انعقاد میں معاونت ہے۔

انتخابی عمل کےدوران پاک فوج کے ساڑھے تین لاکھ اور محکمہ پولیس کے ساڑھے چارلاکھ جوان تعینات کئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق، بیلٹ پیپرز میں پہلی مرتبہ سیکیورٹی فیچرز شامل کیا گیا ہے، پچاسی ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنزمیں سے سترہ ہزارسے زائد کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جبکہ درجنوں پولنگ اسٹیشنز پر خفیہ کیمرے بھی نصب کردیئے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ تمام حلقوں میں دس فیصد خواتین کے ووٹ لازمی ہوں گے، جس حلقہ میں خواتین ووٹوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہوئی، اس کے نتائج کالعدم قرار دیئےجائیں گے اور خواتین کو زبردستی روکنےکی شکایت پر کارروائی کی جائے گی۔

یہ پاکستان کے مہنگے ترین انتخابات ہیں جن پر وفاق 21 ارب خرچ کرے گا۔ صوبوں کے انتظامات پر آنے والی لاگت الگ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG