رسائی کے لنکس

logo-print

مذہبی رواداری و ہم آہنگی کے لیے ضابطہ اخلاق پر کام جاری: وفاقی وزیر


وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف کا کہنا تھا کہ مذہبی ہم آہنگی کے لیے علما کی طرف سے تجاویز جمع کیے جانے کے بعد اگر ضرورت پڑی تو اس پر قانون سازی بھی کی جائے گی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے کہا ہے کہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ضابطہ اخلاق تیار کیا جا رہا ہے جس میں تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والےعلما کی تجاویز کو شامل کیا جائے گا۔

منگل کو اتحاد بین المسلمین کے اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مختلف شہروں میں علما کے اجلاسوں میں انھیں مذہبی رہنماؤں کی طرف سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی جاچکی ہے۔

’’ان سب سے تجاویز لی گئی تاکہ ایک جامع اور مربوط لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ آپ بھی تجاویز دیں اور اس کی روشنی میں ہم ایک متفقہ ضابطہ اخلاق تیار کر سکیں، صرف تیار ہی نہ کریں پھر ہم سب مل کر اس ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد بھی کروائیں، نفرتوں کو محبت میں بدلیں۔‘‘

اس سے قبل بھی ان کی طرف سے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے تاہم اب تک اس کے خدوخال اور تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔

مبصرین کسی بھی نئے ضابطہ اخلاق پر موثر عمل درآمد کی ضرورت دیتے رہے ہیں اور ان کے بقول صحیح معنوں میں ضابطہ اخلاق کی پاسداری کے بغیر اس کی افادیت نہیں رہتی۔

سردار یوسف نے ایسی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کے لیے علما کی طرف سے تجاویز جمع کیے جانے کے بعد اگر ضرورت پڑی تو اس پر قانون سازی بھی کی جائے گی۔

’’آپ (علما) کے تعاون سے اس پر عمل درآمد بھی ہو گا، یہ حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں ہو گی بلکہ آپ بھی اس میں برابر کے شریک ہوں گے۔‘‘

ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تک سنی اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے متعدد اہم مذہبی رہنماؤں کو ہدف بنا کر قتل کیا جا چکا ہے۔

فرقہ واریت کے خاتمے اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی حکومتی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو سنا جائے اور رواداری کا ماحول پیدا کیا جائے اور اس دوران جو بھی تجاویز سامنے آئیں گی ان پر غور کے بعد اس ضابطہ اخلاق میں شامل کیا جائے۔ ان کے بقول اس کا سب بے بڑا مقصد ملک کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانا ہے۔
XS
SM
MD
LG