رسائی کے لنکس

logo-print

تارکین ِوطن کی مشکلات کے حل کے لیے سپریم کورٹ میں خصوصی شعبہ قائم


عدالت عظمیٰ کے عہدیداروں کے مطابق اس شعبے کو خط، فیکس یا ای میل کے ذریعے کوئی بھی سمندر پار پاکستانی اپنی شکایت ارسال کر سکے گا جس پر کارروائی 24 گھنٹوں کے اندر شروع کردی جائے گی

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سے متعلق سیل میں ایک شعبہ قائم کرنے کا حکم دیا ہے جس کا مقصد بیرون وطن مقیم پاکستانیوں کے اپنے ملک میں درپیش قانونی مسائل کا جلد تدارک کرنا ہے۔

عدالت عظمیٰ کے عہدیداروں کے مطابق اس شعبے کو خط، فیکس یا ای میل کے ذریعے کوئی بھی سمندر پار پاکستانی اپنی شکایت ارسال کرسکے گا جس پر کارروائی 24 گھنٹوں کے اندر شروع کردی جائے گی۔

سپریم کورٹ سے جاری ایک بیان کہا گیا ہے کہ وطن سے دور ہوتے ہوئے حق رائے دہی سے لیکر جائیداد پر قبضے یا دیگر معاملات سے متعلق درخواستوں پر چیف جسٹس خود متعلقہ محکموں کو احکامات جاری کریں گے۔

مبصرین اور قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اس سے ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے رکن اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز ساجد مہدی نے ہفتہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہمارے عدالتی نظام میں تاخیری حربے کافی استعمال ہوتے ہیں۔ (اس فیصلے سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں) کا اعتماد ہم ہر بڑے گا تو وہ آپ زیادہ ہیسے یہاں بھیجیں گے۔‘‘

پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران اور اقتصادی مشکلات کا شکار ہے جس سے نکلنے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات کے علاوہ ملک میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

عدالت عظمیٰ کے عہدیداروں کے مطابق بیرون ملک پاکستانی میزبان ملک خود کو میں درپیش مشکلات کے بارے میں بھی شکایات اس شعبے کو بھیج سکے گے جن کے حل کے لیے کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قانون ساز شیخ صلاح الدین کا کہنا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی اعتماد سازی کے لیے حکومت کو توجہ سفارتخانوں کے کردار کو فعال بنانے پر دینا ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ تارکین وطن سے متعلق قانون سازی پر بھی نظر ثانی کرنی چاہیے۔

’’حق رائے دہی دینے کا فیصلہ ہوگیا تھا مگر ٹائم بہت کم رہ گیا تھا مگر اب جب بھی الیکشن ہوں گے وہ ہو جائے گا کیونکہ بہت سارا کام تو ہمارے وقت میں ہو چکا ہے۔ دہری شہریت کے قانون میں ترمیم پر ہم نے بل پیش کرنے کی کوشش کی مگر پیپلز پارٹی تک نے ساتھ نا دیا اور مسلم لیگ (ن) بھی پیچھے رہی۔‘‘

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابقہ مخلوط حکومت کا حصہ تھی اور گزشتہ پارلیمان میں کئی اراکین کو دہری شہریت رکھنے پر عدالت عظمیٰ نے نااہل قرار دے دیا تھا۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف نے اب اپنے بیرون ملک دوروں کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے متعلق ایسے ’’امتیازی‘‘ قوانین میں ترمیم ہونی چاہئے۔

سپریم کورٹ کے حکام کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ کے ذریعے تمام سفارتخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس شعبے سے متعلق زیادہ سے زیادہ عوام کو آگاہ کرنے کے لیے اس بارے میں معلومات اپنے دفاتر میں بڑی نمایاں جگہ پر آویزاں کریں۔
XS
SM
MD
LG