رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردوں سے نمٹنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف


محکمہٴ خارجہ کے ترجمان کے بقول، ’’دہشت گردی سے کوئی بھی ملک اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا پاکستان‘‘۔ اِس سے نبردآزما ہونے میں، ’’ہم پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے، چاہے داعش ہو یا دیگر دہشت گرد گروہ جو ملکی سرزمین پر کارروائیاں کرتے ہیں‘‘

امریکی محکمہٴ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں داعش کے ’’ہونے یا نہ ہونے‘‘ کے بارے میں ’’واضح طور پر کچھ نہیں‘‘ کہا جا سکتا۔ تاہم، بقول ترجمان، ’’پاکستان میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں اِن میں سے کچھ دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہیں ہیں‘‘۔

ترجمان مارک ٹونر نے یہ بات جمعے کو روزانہ اخباری بریفنگ میں ایک سوال کے جواب میں کہی۔ ترجمان نے کہا کہ دہشت گرد ایسے مقامات کی تلاش میں رہتے ہیں جہاں عمل داری کا فقدان ہو۔

جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے، ترجمان نے کہا کہ ’’ہم نے وہاں داعش کے عناصر یا داعش سے منسلک گروہوں کو پنپتے دیکھا ہے‘‘۔

مارک ٹونر نے کہا کہ ’’امریکہ حکومتِ پاکستان کی اُن کوششوں کو تسلیم کرتا ہے جو دہشت گردوں کو دھکیلنے اور اُن سے لڑنے کے لیے کی جارہی ہیں‘‘۔

بقول ترجمان ’’دہشت گردی سے کوئی بھی ملک اتنا متاثر نہیں ہوا جتنا پاکستان‘‘؛ اور دہشت گردی سے نمٹنے کے سلسلے میں، ’’ہم پاکستان کی حمایت جاری رکھیں گے، چاہے داعش سے نمٹنے کا معاملہ ہو یا دیگر دہشت گرد گروہوں سے، جو ملک کی سرزمین پر کارروائیاں کرتے ہیں‘‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ بھارتی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکہ دونوں ملکوں (پاکستان و بھارت) کے درمیان ’’امن عمل کو آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے‘‘۔

وزرائے اعظم، نواز شریف اور نریندر مودی کی ملاقات کے حوالے سے سوال پر، ترجمان نے کہا کہ وہ اِس متعلق ’’کوئی بات نہیں کہہ سکتے‘‘۔ تاہم، انھوں نے کہا کہ ’’ہم معاملات کو پیش رفت کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہین‘‘۔

ملاقات کے امکان کے بارے میں، ترجمان نے کہا کہ اس پر کوئی فیصلہ ہوا، تو ہم اس کے حامی ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG