رسائی کے لنکس

logo-print

سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 19 ہزار سے زائد


چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کہہ چکے ہیں کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کے شرح میں اضافے کے باوجود ملک کے بعض حصوں کی عدالتوں میں صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں اختتام ہفتہ پر زیر التوا مقدمات کی تعداد 19 ہزار 304 رہی جب کہ ایک ہفتے کے دوران 399 مقدمات نمٹائے گئے۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 2 فروری سے آٹھ فروری کے دوران ملک کی اس اعلیٰ ترین عدالت میں 341 نئے مقدمات کا اندراج بھی ہوا۔

بیان کے مطابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے عدالت عظمیٰ اور اس کی مختلف رجسٹریوں میں بینچ بھی تشکیل دیے ہیں۔

مزید برآں بیان میں کہا گیا ہے کہ سائیلین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے چیف جسٹس اور عدالت عظمیٰ کے دیگر جج صاحبان زیر التوا مقدمات جلد نمٹانے کے لیے پرعزم ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر یہ کہہ چکے ہیں کہ مقدمات کو نمٹانے کے لیے عدلیہ نے خاصی پیش رفت کی ہے اور اس کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن اب بھی ان کے بقول ملک کے مختلف حصوں میں یہ شرح بہت کم ہے جو ایک تشویشناک امر ہے۔

معروف قانون دان اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر مقدمات کو جلد نمٹانے کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت فی الوقت اعلیٰ سطح پر ہی دیکھنے میں آرہی ہے۔

’’عدلیہ کی آزادی صرف اوپر کی سطح تک ہے بلکہ وہ اس حد تک انھوں (عدالت عظمیٰ) نے سنبھال لی ہے کہ اس کے نتیجے میں ہائی کورٹ اور ضلعی عدالت کے ججوں کو اپنے اوپر اعتماد نہیں رہ گیا اور یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کی بھرمار ہورہی ہے۔۔۔وہ معاملات بہت حد تک سپریم کورٹ جنہیں ہاتھ نہیں لگاتی تھی ان پر بھی انھیں فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، بلا شک و شبہ انھوں نے بہت سے مقدمات حل بھی کیے ہوں گے اور کیے بھی ہیں اور چند ایک تو معرکے بھی مارے ہیں انھوں نے۔‘‘

اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ملک میں کرپشن کے خاتمے کے سلسلے میں بھی سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں سے خاصی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور انھیں اُمید ہے کہ عدالت عظمیٰ کے اقدامات کا اثر ماتحت عدالتوں تک بھی پہنچے گا۔

’’یہ توقع رکھنی چاہیئے کہ یہ صورتحال نچلی سطح تک بھی ہوگی کیونکہ اگر اعلیٰ سطح پر حالات ٹھیک ہوں تو نیچے بھی ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن ہوتے ہوتے کب تک یہ معاملہ پہنچے گا کیونکہ ملک میں کرپشن بہت بڑھ چکی ہے ۔۔۔۔اس میں تاخیر ہوگی اور اس طرح بہت سارے عرصے میں بہت سارے لوگوں کے انصاف کا خون بھی ہو جائے گا۔‘‘

عدالت عظمیٰ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد تو ہزاروں میں ہے لیکن پاکستان کی ماتحت عدالتوں میں یہ تعداد تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ میں یہ کہا جا چکا ہے کہ پاکستان کی مختلف عدالتوں میں ایسے مقدمات کی تعداد 14 لاکھ کے قریب ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک مقدمات کی جلد شنوائی اور فیصلوں کے لیے یہ تجویز دے چکے ہیں کہ ماتحت عدالتوں میں شام کے اوقات میں بھی مقدمات سنے جانے چاہیئں۔
XS
SM
MD
LG