رسائی کے لنکس

logo-print

زیر حراست امریکی شہریوں کو اذیتیں دینے کا الزام


کالعدم انتہا پسند گروہوں سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کے الزا م میں پاکستان میں مقدمے کا سامنا کرنے والے پانچی امریکی شہریوں نے سرگودھا کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے موقع پر جج کو بتایا ہے کہ دوران حراست انھیں اذیتیں اور موت کی دھمکیا ں دی جا رہی ہیں۔

منگل کو اس مقدمے کی کارروائی کے بعد ان امریکی شہریوں کے وکیل طارق اسد نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے مئوکلوں نے عدالت کے سامنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھیں بجلی کے جھٹکے بھی دیے گئے ہیں۔

پاکستانی حکام نے ان پانچوں مشتبہ غیر ملکیوں کو دسمبر میں سرگودھا میں ایک گھر پر چھاپے کے دوران دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطوں کے جرم میں گرفتار کیا تھا تاہم ابھی تک اِن پر فردِ جرم عائد نہیں کی گئی ہے ۔

امریکی ریاست ورجنیا اور اس کے مضافات سے تعلق رکھنے والے زیر حراست ان افراد کا مئوقف ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور صرف اپنے مسلمان بھائیوں کو طبی اور مالی امداد پہنچانا چاہتے تھے۔ گرفتار شدگان امریکی شہریوں میں دو پاکستانی نژاد ، ایک مصری ، ایک یمنی اور ایک ایریٹرین نژاد ہے۔

پاکستانی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان افرادکے قبضے سے انھیں کمپیوٹرکے ذریعے طالبان عسکریت پسندوں کے بھیجے گئے ای میل پیغامات ملے تھے جومبینہ طور پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG