رسائی کے لنکس

logo-print

شادی سے انکار کرنے والی لڑکی کے قتل میں ملوث پانچوں ملزم گرفتار


پولیس کے ایک عہدیدار وحید احمد کا کہنا ہے کہ تین مزید ملزموں کو جمعہ کو گرفتار کیا گیا جب کہ منگل کو دو ملزموں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

پاکستان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ایک 19 سالہ لڑکی کو شادی سے انکار پر تشدد کر کے ہلاک کرنے والے تمام پانچوں ملزم اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

پولیس کے ایک عہدیدار وحید احمد کا کہنا ہے کہ تین مزید ملزموں کو جمعہ کو گرفتار کیا گیا جب کہ منگل کو دو ملزموں کو پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کا مرکزی ملزم اس نجی اسکول کے مالک شوکت ہے جہاں مقتولہ ماریہ بھی پڑھاتی تھی۔ شوکت کا بیٹا ماریہ سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے انکار پر لڑکی کو تشدد کر کے نذر آتش کیا گیا۔

عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق اس کے لڑکی کے جسم کا زیادہ تر حصہ بری طرح جھلس گیا۔

ماریہ کو تشویشناک حالت میں اسلام آباد کے ایک اسپتال میں منتقل کیاگیا تاہم وہ جانبر نا ہوسکی اور بدھ کو اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ شوکت نے دیگر چار افراد کے ساتھ مل کر اسے گھر سے زبردستی نکالا اور اسے آگ لگا دی تھی۔

ماریہ کے والد صداقت نے پولیس کی طرف سے اس واقعہ میں ملوث تمام ملزموں کی گرفتاری پر اطمیناں کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام ملزموں کو اس کے خاندان کے افراد کے سامنے پھانسی دی جائے۔

ایسے واقعات میں اس طرح کے مطالبات کوئی نئی بات نہیں ہے تاہم پاکستانی قانون میں اس طریقے سے سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG