رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ:نسلی اقلیتوں کو برطانوی معاشرے میں ضم ہونا چاہیئے: تحقیق


ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک جیسے پس منظرکے حامل افراد کی نسبت مخلوط گروہوں کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو زیادہ برطانوی محسوس کرتے ہیں۔

محقیقین نے مشورہ دیا ہے کہ نسلی اقلیتوں کو چاہیئے کہ وہ خود کو برطانوی محسوس کریں اور برطانوی معاشرے میں پوری طرح سے ضم ہونے کی کوشش کریں ۔ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ ،اقلیتوں کو صرف اپنے آبائی وطن سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے علاقوں میں آباد ہو کر محدود نہیں ہونا چاہیئے بلکہ انھیں دوسرے علاقوں میں بھی رہائش اختیار کرنی چاہیئے۔

ایک نئےمطالعے کی رو سے خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک جیسے پس منظرکے حامل افراد کی نسبت مخلوط گروہوں کے ساتھ رہتے ہوئے خود کو زیادہ برطانوی محسوس کرتے ہیں۔

اس جامع تحقیقی مطالعے میں نسلی گروہوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے انضمام کے مثبت اثرات کا واضح ثبوت ملا ہے۔

'ایسیکس یونیورسٹی ' اور 'آکسفورڈ یونیورسٹی' کے محقیقین نے دو جائزوں سے حاصل ہونے والے اعدادوشمار کا تجزیہ اپنی تحقیق میں پیش کیا ہے جس میں 4,391 برطانوی شریک ہوئے جن میں 3,582 افراد کا تعلق نسلی اقلیتوں سے تھا۔

جائزہ رپورٹ کے نتیجے سے معلوم ہوا کہ برطانوی معاشرے میں انضمام سے اقلیتوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جب نسلی اقلیتوں کے گروہ مخلوط علاقوں میں رہتے ہیں جہاں ان کے آبائی وطن سے چند ہی گھرانے ہوتے ہیں تو ان میں برطانوی شناخت کا احساس 5 فیصد زیادہ ہوتا ہے ان لوگوں کی نسبت جو اپنے ہی پس منظر سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان زندگی گزار تے ہیں۔

محققین کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو نسلی شناخت رکھنے والے علاقوں کے بجائے ملے جلے فرقوں کے ساتھ رہتے ہیں ٹھیک اسی طرح اپنے پڑوسیوں پراعتماد کرتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں اور کمیونٹی کی ہر سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جیسا کہ نسلی شناخت برقرار رکھنے والے اپنے ہمسایوں کے ساتھ کرتے ہیں ۔

اس رپورٹ کی معاون مصنفہ نیل ڈیمی ریوا نے کہا کہ "متنوع معاشرہ برطانیہ میں رہنے والی تمام نسلی اقلیتوں کے لیے ایک اچھی چیز ہے اگر وہ جداگانہ ماحول میں زندگی گزارتے ہیں اور آپس میں میل جول بڑھاتے ہیں اورخود کو زیادہ برطانوی محسوس کرتے ہیں ''۔

'سوشیالوجی جرنل ' میں شائع ہونے والی جائزہ رپورٹ کا نتیجہ ایک پرانی تحقیق کی بھی نفی کرتا ہےجس میں اخذ کیا گیا تھا کہ نسلی اقلیتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ میل میلاپ اعتماد میں کمی کا باعث بنتا ہے یا پھرنسلی اقلیتوں کے ایک ساتھ رہنےسے کمیونٹی کی مقصدیت میں کمی واقع ہوتی ہے۔

محققین نے کہا کہ تارکین وطن کے برطانوی معاشرے میں انضمام کے لیے ضروری ہے کہ تنوع کی حوصلہ افزائی کی جائے نتیجے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گورے برطانویوں کے لیے پڑوسیوں کے مابین اعتماد ٹوٹنے کی وجہ نسل کے عنصر کے مقابلے میں غریب ہونا تھا ۔

میل آن لائن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ نتیجہ ٹوری جماعت کے ایک سابقہ چیرمئین لارڈ ٹیبٹ کے خیالات کی ترجمانی کرتا ہےجس میں انھوں نے کہا تھا کہ نسلی گروہوں کے ایسے افراد جو صرف اپنی کمیونٹی تک محدود رہنا چاہتے ہیں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ میل جول بڑھانے سے احتراز کرتے ہیں وہ دراصل برطانیہ میں اپنے ملک کی دوبارہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں ۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے لکھا ہے کہ وزیر اعظم اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ نسلی اقلیتوں کے نوجوانوں کو انگریزی میں مہارت حاصل کرنی چاہیئے انھوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ برطانیہ میں بعض نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والی نئی نسل اپنے باپ دادا کی نسبت برطانوی معاشرے سے زیادہ کٹی ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG