رسائی کے لنکس

logo-print

پشاور: شدت پسندوں کے حملے، فورسز کی کارروائی میں 9 ہلاک


پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں ایک مرکزی شاہراہ پر گھات لگائے درجنوں مسلح افراد نے مسافر گاڑیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں شدت پسندوں کے حملے اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور سمیت نو افراد ہلاک ہو گئے۔

پشاور پولیس کے مطابق شہر کے مضافاتی علاقے متنی میں یہ واقع جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب پیش آیا، جہاں لگ بھگ 40 شدت پسندوں نے خودکار ہتھیاروں سے تین گاڑیوں پر فائرنگ کی۔

ڈپٹی سپریٹنڈنٹ پولیس فضل واحد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ شدت پسندوں کی فائرنگ سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے جب کہ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

فضل واحد نے اس واقعہ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’’تین گاڑیاں آ رہی تھی جو بظاہر سرکاری (جیپ) کی طرح لگ رہی تھیں لیکن درحقیقت وہ عام گاڑیاں تھیں۔‘‘

پولیس افسر فضل واحد کے مطابق حملے کے بعد قریب ہی موجود سکیورٹی اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے جس کے بعد اُن کے اور شدت پسندوں کے درمیان لگ بھگ نصف گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور قریبی پہاڑی علاقوں کی جانب فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس کے مطابق شدت پسندوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا جا چکا ہے۔

پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں اس سے قبل بھی دہشت گردی مہلک حملے کر چکے ہیں جن میں فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

ادھر پشاور کے علاقے ہشتنگری میں ایک پولیس اسٹیشن میں بم دھماکے سے تین اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق بارودی مواد تھانے میں کھڑی ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔
XS
SM
MD
LG